لڑائی فوج اور سرمچاروں کی نہیں ہم سب کی ہے – وزیراعلیٰ بلوچستان

520

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا 16 واں جبکہ موجودہ صوبائی حکومت کا پہلا اجلاس منعقدہ امن وامان کی بہتری، اسمگلنگ کے خاتمے، غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی، سمیت اہم فیصلے، اجلاس میں کور کمانڈر بلوچستان کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام شریک تھیں۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو، چیف سیکرٹری بلوچستان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ آئی جی پولیس، چیف کلکٹر کسٹم کی شریک تھیں اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں سی پیک منصوبوں اور چائنیز کی فول پروف سیکورٹی کا جائزہ لیا گیا۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سیکورٹی کو موثر بنانے کے لئے مروجہ ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کا فیصلہ، اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں انسداد اسمگلنگ کارروائیوں کو موثر و تیز کرنے کا فیصلہ، اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے انتظامی اور قانونی سقم دور کرکے بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کرنے پر اتفاق اور چینی، کھاد، پیٹرول و ڈیزل کی دو طرفہ اسمگنک روکنے کیلئے نتیجہ خیز اقدامات اٹھانے کا فیصلہ، اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں بارڈر ایریا سے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پاکستان اسمگنگ کے تدارک کا فیصلہ کیا گیا۔

ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان سے واپس بھجوائے جانے والے غیر قانونی تارکین وطن کے اعداد و شمار پیش کیئے گئے۔ وفاقی حکومت کی گائیڈ لائن اور فیصلے کے مطابق مزید تارکین وطن کی واپسی کا عمل طے شدہ ٹائم لائن سے مشروط ہے۔

اس موقع پروزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا اپیکس کمیٹی کے سولہویں اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پرامن بلوچستان مستحکم پاکستان کا ضامن ہے دہشت گردی کے خلاف لڑائی فوج اور سرمچاروں کی نہیں ہم سب کی ہے۔ معصوم افراد کے قاتل کسی رعایت کے مستحق نہیں جس نے بندوق اٹھائی ہے اس سے سختی سے نمٹیں گے جو بلوچستانی ناراض ہے اس کے گھر جائیں گے، بہتر طرز حکمرانی کے لئے مثبت سمت کا تعین کررہے ہیں گڈ گورننس کے ثمرات پانچ سے چھ ماہ میں عوام تک پہنچنا شروع ہو جائیں گے، صوبے کی بہتری کیلئے سب نے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔