شہدائے مرگاپ کی یاد میں نشست : شہید غلام محمد کے ساتھی قربانی کے جذبے سے سرشار ہیں۔ قاضی ریحان

104

بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ایم ) کے شہید انور ایڈوکیٹ کیچ,گوادر ھنکین کی طرف سے شہدائے مرگاپ کی یاد میں تربیتی نشست ہوا۔

‘درس تحریک اور انقلابی تنظیم ‘ کے عنوان سے شہدائے مرگاپ کی یاد میں یہ ساتویں اور آخری نشست تھی۔

اس نشست میں چنیدہ ذمہ داران اور کارکنان نے شرکت کی۔کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے بی این ایم کے مرکزی سیکریٹری انفارمیشن قاضی داد محمد ریحان نے کہا بی این ایم کے کارکنان تحریک کا سرمایہ ہیں۔ قربانی صرف شہادت نہیں بلکہ زندہ رہ کر بھی دی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹرنسیم کہتے ہیں کہ ہمیں قربانی کے لیے زندہ رہنا ہوگا۔بی این ایم کے کارکنان شہید واجہ غلام محمد کے ساتھی اور قربانی کے جذبے سے سرشار ہیں۔

انھوں نے کہا تحریک سے دستبردار کرنے کے لیے بی این ایم کے کارکنان کے خاندان اجتماعی سزا کا شکار ہیں۔ہمارے کئی رشتہ دار محض ہم سے خونی رشتوں کی بنیاد پر جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے گئے تاکہ ہمیں بلیک میل کرکے تحریک سے دستبردار کیا جاسکے لیکن بی این ایم کے آزادی پسند کارکنان اپنے موقف اور نظریات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

قاضی ریحان نے کہا شہید غلام محمد کا کاروان اپنی منزل تک آگے بڑھتا رہے گا۔ہم تحریک آزادی کی کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔ عمل سے خالی سیاست صرف لفاظی ہے ہمیں عملی سیاست کرنی ہے۔ ہم اپنے ہر عمل کے بعد کامیابی کا جائزہ لیں ، ناکامیوں کو دور کریں ، جدت اور جدید تقاضوں سے مطابقت رکھنے والی حکمت عملی اپنائیں۔ اور ہر محاذ پر دشمن کا گھیراؤ کرکے اپنی سرزمین پر اس کے قبضے کو کمزور کردیں۔

انھوں نے کہا ضمیر فروش نام نہاد سیاستدانوں کا ایک بدنام ٹولہ کہا کرتا تھا کہ ‘ بی این ایم غلام محمد سے شروع لالا منیر سے ختم ‘ لیکن آج بی این ایم بلوچ قوم کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے جس کے کارکنان ہر محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس ٹولے کا جواب شہید لالامنیر نے گوادر کے ایک جلسے میں بھی دیا تھا۔ بی این ایم کو طعنے دینے والوں کی سیاست کا آج بوریا بسترا گول ہوچکا ہے۔قومی تحریک سے منحرف قوتوں کو بلوچ قوم نے مسترد کردیا۔آج بی این ایم پورے بلوچستان اور بلوچستان سے باہر پھیل چکی ہے اور بلوچ پارلیمانی جماعتیں اپنے خول میں سکڑ رہی ہیں۔

قاضی ریحان نے کہا منفی سیاست کی وجہ سے ایک حلقہ یہ سوچتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر فیک آئی ڈیز کے ذریعے بی این ایم کا مقابلہ کرے گا یا اس کے خلاف پروپیگنڈا کرکے اسے ناکام بنادے گا۔یہ خام خیالی ہے عملی سیاست کا مقابلہ منفی پروپیگنڈوں اور سوشل میڈیا پر فیک آئی ڈیز بنانے سے نہیں ہوگا۔ اس لیے ہم تمام بلوچ سیاسی قوتوں کو مثبت سیاست کی دعوت دیتے ہیں۔اتحاد محض خوش نما لفظ نہیں بلکہ قومی قوتوں کا اتحاد دشمن کو کمزور اور بلوچ تحریک کو مضبوط کرے گا مگر ہمیں یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کی قربانیوں، سیاسی دانش، سیاسی نظریات اور کردار کو قبول کرتے ہیں یا نہیں ؟۔