دکی: کانکنوں کی عدم بازیابی، تمام کول مائنز کی بندش و مظاہروں کا اعلان

117

بلوچستان کے علاقے دکی میں مبینہ طور پر مغوی کوئلہ کان کنوں کی عدم بازیابی پر 26 اپریل کو تمام کول مائنز مکمل بند کرکے احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔

دکی میں پاکستان ورکرز فیڈریشن کی جانب سے میونسپل کمیٹی کے حال میں 9 مغوی کول مائنز مزدوروں کے اغواء کے حوالے سے فیڈریشن بلوچستان کے جنرل سیکٹری پیر محمد کاکڑ کے صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں حاجی علی محمد ترین، عزیز احمد سارنگزئی، نعمت اللہ خان، پاکستان ورکرز فیڈریشن کے ضلع دکی کے صدر شیر محمد کاکڑ، جنرل سیکرٹری مولوی محمد شاہ، دکی کول مائنز کے ورکرز اور ٹھیکیداران و دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں 9 مغوی کانکنوں کی ایک ماہ گزرنے کے باوجود عدم بازیابی پر شدید تشویش اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں مغوی کانکنوں کی عدم بازیابی کی صورت میں 26 اپریل بروز جمعہ کو دکی، لورالائی، قلعہ سیف اللہ اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہروں اور اسی دن بروز جمعہ سے دکی کول مائنز میں مکمل کام بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس سلسلے میں اجلاس میں مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔

قبل ازیں مارچ میں کول مائنز کمیٹی کا اجلاس ایف سی چھاؤنی دکی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستانی فوج کے افسران، کول مائنز اونرز اور آل پاکستان مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن کے صوبائی اور ضلعی رہنماوؤں سمیت قبائلی رہنماؤں اور سرداروں نے شرکت کی تھی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ کوئلہ کانکنوں کے اغواء اور اس سے قبل پیش آنے والے واقعات کی تدارک کے لئے مسلح گروہ تشکیل دیا جائے گا جو پاکستانی فورسز کے ساتھ ملکر کول مائنز کی حفاظت یقینی بنائے گی اور اسکے علاوہ ہر پیٹی ٹھیکیدار سمیت ہر کان مالک اپنے ہالج پر ایک پرائیوٹ سیکورٹی اہلکار تعینات کرکے سرچ لائٹ کو یقینی بنائیگا۔

خیال رہے بلوچستان کے کوئلہ کانوں سے ایک بڑی رقم پاکستانی فورسز فرنٹیئر کور کو سیکورٹی دینے کے حوالے سے جاتی ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

سال 2019 میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ایچ آر سی پی مشن کو پتہ چلا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز فی ٹن پیداوار پر سیکیورٹی محصول وصول کرتی ہیں جوسرکاری طورپرلاگو نہیں ہے اور کانوں کے مالکان اور مزدور یونینوں کی نظرمیں یہ بھتہ ہے۔