تربت: جبری گمشدگیوں کے خلاف دو مقامات پر دھرنا دوسرے روز جاری،خواتین پر گاڑی چڑانے کی کوشش

251

ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت اور شاپک میں جبری گمشدگیوں کے خلاف آج دوسرے روز دھرنا جاری ہے ۔

رواں مہینے بلیدہ سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار عزیر بلوچ کے لواحقین کا ڈی بلوچ کے مقام پر دوسرے روز دھرنا جاری ہے۔

دھرنے کے سبب تربت تا گوادر و کراچی شاہراہ مکمل طور پر بند ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ عزیر بلوچ کو بحفاظت بازیاب کیا جائے اور لواحقین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ الزامات کو عدالتوں میں ثابت کیا جائے اس طرح کسی کو لاپتہ کرنا کہاں کی قانون ہے ؟

دوسری جانب تربت شاپک کے مقام پر تربت تا کوئٹہ شاہراہ M8 پر بھی دوسرے روز دھرنا جاری، خواتین مظاہرین لاپتہ نعیم رحمت کی بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں-

‎ضلع کیچ کے علاقے شاپک کے رہائشی تربت یونیورسٹی کے طالب علم نعیم ولد رحمت سکنہ شاپک کی عدم بازیابی کے خلاف ایک بار پھر لواحقین اور اہل علاقہ نے شاپک کے مقام پر ایم ایٹ شاہراہ بلاک کردیا ہے۔

اس سے قبل رواں ماہ لاپتہ نوجوان کے اہلخانہ نے مذکورہ شاہراہ پر دھرنا دیکر انکی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا تاہم ضلعی انتظامیہ کی یقین دہانی پر انہوں نے چھ روز بعد اپنا دھرنا منسوخ کردیا تھا-

نعیم رحمت کو 2 سال قبل تربت شھر سے پاکستانی فورسز نے گرفتاری کے بعد لاپتہ کردیا گیا تھا، جو تاحال منظرعام پر نہیں آسکے ہیں-

شاپک دھرنے میں دیگر لاپتہ افراد کے اہلخانہ سمیت اہل علاقہ شریک ہیں اور اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں-

جبکہ آج صبح شرکا پر نامعلوم افراد کی ایک بار پھر گاڑی چڑانے اور دھرنے کو مشتعل کرنے کی کوشش کی تاہم خواتین اور بچوں نے دھرنا جاری رکھتے ہوئے نعیم رحمت کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ۔