صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کے گھر ’پولیس کے چھاپے‘ کے خلاف احتجاج کا اعلان

199

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے سربراہ اور صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کے گھر پر پولیس نے بلا جواز چھاپہ مارا ہے۔

کوئٹہ میں اتوار کی شب پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ پولیس کی بھاری نفری نے پارٹی کے سربراہ کے گھر پر چھاپہ مارا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ چھاپہ ’کسی مجسٹریٹ کے بغیر مارا گیا‘ اور مبینہ طور پر چادر و چار دیواری کی پامالی کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ پولیس نے پارٹی کے سربراہ کے ایک ذاتی محافظ کو گرفتار بھی کیا جن کے پاس لائسنس یافتہ اسلحہ تھا۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی کے سربراہ نے گذشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں حالیہ انتخابات میں دھاندلی اور اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف حقائق بیان کیے جس پر رات کو ان کے گھر پر چھاپہ مار کر ان کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔

انھوں نے پارٹی کے سربراہ کے گھر پر چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف پیر کو تین بجے احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی کاروائیوں سے پارٹی اور اس کی قیادت کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب حکومت بلوچستان کے سابق نگراں وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے محکمہ اطلاعات کے دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کے گھر پر چھاپے کے الزام کو مسترد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے یہ کارروائی محمود خان اچکزئی کے گھر کے سامنے ایک اراضی پر قبضے کے خاتمے کے لیے کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اراضی کی رکھوالی محمود خان اچکزئی کا ایک ذاتی محافظ کر رہا تھا جنھیں پولیس کی کارروائی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر گرفتار کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ جہاں بھی سرکاری یا نجی اراضی پر قبضہ ہے، حکومت ان کو واگزار کرانے کے خلاف مہم کو جاری رکھے گی۔