بلوچستان یونیورسٹی تباہی کے نہج پہ پہنچ گیا ہے ۔ بی ایس او (پجار)

88

اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین بابل ملک بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی میں جو کاروباری مرکز بنے ہوئے ہیں انکو فوری بند کرکے یونیورسٹی کو ایک تعلیمی ادارہ بنایا جائے بد قسمتی سے ایسا اب تک ممکن نہیں ہوا حالانکہ ہر سال کے 6 ماہ بلوچستان یونیورسٹی کے پروفیسر کو تنخواہیں نہیں ملتی اور یونیورسٹی کے کلاسس بند رہتے ہیں اور یہ سب کچھ باقاعدہ ایک پالیسی کے تحت مختلف حربے استعمال کرکے بلوچستان یونیورسٹی کو بند کرنے کی سازشوں کا تسلسل ہے ۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان یونیورسٹی کو طلباء اور اساتذہ سے زیادہ ریاستی این جی اوز اور ریاستی ادارے اپنا جاگیر سمجھتے ہیں، کئی بار طلباء کے کنونشن اور کانگریس روکے گئے تاکہ طلباء کو سیاسی ماحول سے دور رکھا جائے لیکن سابقہ وزیر اعظم انوار الحق جو خود کئی دفعہ انہی ریاستی ٹاوٹس کے مدعو کرنے پہ بلوچستان یونیورسٹی آئے لیکن جب بلوچستان یونیورسٹی کے اساتذہ کو تنخواہیں نہیں مل رہی ہے ، جب طلباء لاپتہ ہورہے ہیں تو نا وزیر اعظم اس یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو ریاست جبر سے بچانے میں کردار ادا کیا نا ہی بلوچستان کے اس تاریخی اور بڑے یونیورسٹی کو تبائی سے بچانے کے لئے کردار ادا کیا بلکہ ان تمام معاملات کے بعد بھی وائس چانسلر و دیگر انتظامی افسران پنجاب سے درآمد کیے جاتے ہیں جو قابل شرم ہے ۔

مزید کہاکہ بلوچستان یونیورسٹی کے اساتذہ و دیگر ملازمین کے تمام تنخواہیں کو فوری ریلیز کیا جائے اور ہم اعلان کرتے ہیں کہ اگر اساتذہ کے تنخواہ ریلیز نہیں ہوتے تو اساتذہ کے ساتھ ملکر سخت لائحہ عمل دینگے جس کے لئے مکمل تیار ہے ۔