برلن: بلوچستان میں جبری گمشدگیوں پر اسٹیج ڈرامہ پیش کیا گیا

351

بلوچ کلچرل ڈے کی مناسبت سے جرمنی کے دارالحکومت برلن میں بلوچی میوزیکل ٹھیٹر بنام مبارک قاضی بیاد شہدا بلوچستان منعقد ہوا۔ پروگرام کے پہلے حصے میں بلوچ مہاجرین کی زندگی پر ایک مکالمہ پیش کیا گیا جبکہ مبارک قاضی کی شاعری پر کفتگو کی گئی، دوسرے حصے میں بلوچی زبان کے شاعر علی جان داد ، اعظم نور اور دیگر نے اپنے اپنے شعر پڑھے ۔

مقررین نے مبارک قاضی کی شاعری پر کفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قاضی نے بلوچستان کی پہاڑوں، میدان، جنگ، ظلم اور جدوجہد سمیت بلوچ سماج کو درپیش مسائل کو شاعری کے ذریعے بہترین انداز میں بیان کیا ہے۔

مقررین نے کہاکہ ان کی بلوچ مزاحمت کیلئے لکھی گئی شاعری معاشرے میں زندہ تھے اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

پروگرام میں ایک اسٹیج ڈرامہ میں پیش کیا گیا جس میں مبارک قاضی کی موت اور بلوچ سماج میں اسکے اثرات بیان کئے گئے۔ اسٹیج ڈرامہ میں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، مسخ شدہ لاشوں اور لواحقین کے مظاہروں پر ریاستی تشدد کو دیکھا گیا جس کو جرمن اور بلوچ سامعین نے پسند کیا ۔ اسٹیج ڈرامہ بلوچ شہدا کو خراج عقیدت پیش کرکے انکی عظیم قربانیوں کے کے لئے تعارفی کلمات ادا کیے گئے اس موقع پر اسٹیج میں ڈرامہ کے کرداروں میں جنرل اسلم بلوچ کا تصویر اٹھا کر تمام شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔

پروگرام کے آخری حصے میں بالاچ بلوچ نے بینجو بجاکر اپنے فن کا مظاہرہ کیا جس سے سامعین لطیف اندوز ہوئے ۔