یونس کے الزامات بے بنیاد ہیں، مجھے کچھ ہوا تو ذمہ دار یونس ہوگا۔ صحافی نور بلوچ

350

بلوچ صحافی اور یوٹیوبر نور بلوچ نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ محمد یونس سمرین مبینہ جبری شادی کیس میں محمد یونس نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں مجھ پر اور میرے بھائی نصیر احمد پر مختلف الزام عائد کیے ہیں کہ اصل مسئلہ متاثرہ خاندان کی نہیں بلکہ نور بلوچ یعنی میں ہوں، محمد یونس کے تمام الزامات یکسر غلط، بے بنیاد اور لغو ہیں، میں انہیں مسترد کرتاہوں، محمد یونس نے اپنے پریس کانفرنس میں اصل فریق کا نام لینے کے بجائے مجھے نشانہ بنایا جس سے مجھے جانی و مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اور اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار محمد یونس ولد محمد حسن ساکن سریج گریشہ ہوگا۔

انہوں نے کہا محمد یونس نے الزام عائد کیا ہے کہ اس تمام معاملے کے پیچھے میں اور میرے بڑے بھائی نصیر احمد ہیں اور میں یعنی نور بلوچ چند ویوز کی خاطر متاثرہ خاندان کے ویڈیوز اور بیانات شائع کرتا ہوں۔ میں وضاحت کروں کہ میں ایک صحافی ہوں میں نے ویوز کے لیے نہیں بلکہ بلوچ قوم کی خدمت کے لیے صحافت کے مشکلات بھرے پیشے کو اختیار کیا ہے۔ ہم سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ بلوچستان دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں صحافیوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا ہے اور وہ انتہائی مشکل حالات میں کام کررہے ہیں، میں اس سے قبل حکومت وقت کے بہت بڑے ناقد حاجی لشکری رئیسانی، نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ، موجودہ نظام کے بڑے ناقد اور بلوچ دانشور و مصنف ڈاکٹر شاہ محمد مری، تعلیمی خدمات کے لیے مشہور برکت اسماعیل بلوچ، مشہور ماہر نفسیات ڈاکٹر الیاس بلوچ کا انٹرویو کرچکا ہوں۔

نور بلوچ نے کہا انٹرویوز کے علاوہ مختلف پروگرام کی کوریج اور بیانات و خبریں میرے چینل سے شائع ہوتی رہی ہیں جبکہ یہ مسئلہ سامنے آیا تو میں نے سب سے پہلے یونس سے رابطہ کیا کہ اپنا موقف دیں جسے میں شائع کرتا ہوں لیکن محمد یونس نے اپنا موقف دینے سے انکار کردیا تو میں دوسرے فریق کے بیانات اور ویڈیو کسی ایڈٹ کے بغیر من و عن شائع کرتا رہا، میں ویڈیوز کی فرانزک ٹیسٹ میں دینے کے لیے تیار ہوں اور چونکہ مبینہ اغواء و جبری شادی کے ایک فریق یعنی بیوہ بسران نے گذشتہ روز بھی ایک پریس کی ہے لہٰذا دوسرے خبروں کے ساتھ ان کی خبریں شائع کررہا ہوں جیسا کہ دوسرے صحافی شائع کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا یونس، سمرین مبینہ جبری شادی کا مسئلہ شاشان یوٹیوب چینل کے علاوہ بے شمار نیوز ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں شائع ہورہے ہیں اور اس مسئلے پر سیاسی و سماجی تنظیموں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بیانات دی ہیں لیکن پورے معاملے میں صرف مجھے نشانہ بنانا یہ ثابت کرتا ہے کہ یونس ولد محمد حسن نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں لہٰذا مجھے یا میرے خاندان کے کسی فرد کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کا ذمہ دار یونس ہوگا۔