کوئٹہ: سول ہسپتال مزید لاشیں لائی گئی، شناخت تاحال نہیں ہوسکی

658

حکام نے بولان سے مزید سات لاشیں برآمد کرکے کوئٹہ منتقل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کوئٹہ اسپتال حکام کے مطابق ہفتے کے روز مزید سات لاشیں سول اسپتال لائی گئی جہاں انکے شناخت کا سلسلہ جاری ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ لاشیں حملہ آوروں کی ہے جنھیں فورسز نے مقابلے میں قتل کیا-

وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے بولان و گرنواح میں بی ایل اے حملوں کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فورسز کی جوابی آپریشن میں 24 حملہ آور مارے گئے ہیں جن سے 19 کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جبکہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن کا سلسلہ جاری ہے-

دوسری جانب 29 جنوری کو مچھ کے مختلف علاقوں میں حملے اور دو روز تک قبضہ رکھنے کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بی ایل اے نے قبول کرتے ہوئے اپنے 13 ساتھیوں کی مارے جانے کی تصدیق کی تھی جبکہ تنظیم نے انکے تصاویر اور تفصیلات بھی میڈیا کو موصول کردئے ہیں- تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ سول ہسپتال کوئٹہ مزید دو افراد کی لاشیں ان کے ساتھیوں کے نہیں بلکہ فوج کی بمباری سے جانبحق افراد کی ہے۔

ادھر لاشوں کی شناخت کا سلسلہ جاری ہے تاہم بلوچ سیاسی و انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے صوبائی وزیر اطلاعات کے بیان کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ فورسز نے بولان حملے کے متعدد زیر حراست افراد کو قتل کرکے انھیں حملہ آور ظاہر کرنے کی کوشش کررہا ہے-

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی متعدد حملوں کے بعد فورسز نے آپریشن کرکے حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن کی بعد ازاں شناخت پہلے سے زیر حراست افراد کے طور پر ہوئی تھی تاہم آج سول اسپتال لائے لاشوں کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے-