چودہ سالوں سے لاپتہ والد کا بیٹا بھی جبری لاپتہ

361

سبی سے پاکستانی فورسز نے دو افراد کو جبری لاپتہ کردیا ہے جن میں سے ایک کے والد کو 14 سال قبل جبری لاپتہ کیا گیا تھا۔

ٹی بی پی نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز نے خادم حسین ولد مزار خان مری اور فیض محمد ولد جلاؤ مری سکنہ جھالڑی سبی کو 6 فروری 2024 کو ٹیپل کے مقام پر اس وقت جبری لاپتہ کیا جب وہ  سبی سے گاڑی میں سفر کررہے تھے۔

لاپتہ خادم حسین کے والد مزار خان مری بھی گذشتہ 14 سالوں سے جبری لاپتہ ہے۔

حاجی مزار خان ولد گہرام کو 28 مئی 2010 کو دیگر چار افراد کے ہمراہ لاپتہ کیا گیا۔ مزار خان کے لواحقین کے مطابق سبی کے علاقے جالڑی میں فوجی آپریشن کے دوران پاکستانی فوج نے مزار خان سمیت پانچ افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا تھا۔

مزار خان کے لواحقین ان کی بازیابی کیلئے آواز اٹھا رہے تھے تاہم اب مزار خان کے بیٹے کو بھی پاکستانی فورسز نے جبری لاپتہ کردیا ہے۔

رواں سال فروری میں اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں سے دس افراد کے جبری گمشدگی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

پاکستانی فورسز نے مستونگ سے ٹک ٹاکر نوجوان اور نوشکی سے اسپورٹس گولڈمیڈلسٹ نوجوان سمیت کوئٹہ و دیگر علاقوں سے لوگوں کو جبری لاپتہ کردیا ہے۔