مادری زبانوں کا عالمی دن، بساک کے زیراہتمام پنجگور میں تقریب منعقد

148

بلوچی زبان حکومتی سرپرستی سے محروم ہے، پرائمری سے مادری زبان میں تعلیم دی جائے- بساک

مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے ڈگری کالج پنجگور میں تقریب بیاد مبارک قاضی منعقد ہوئی پروگرام دو حصوں پر مشتمل تھا، پہلے حصے میں مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے مقررین نے اپنے اپنے مقالے پڑھے جبکہ دوسرے حصے میں شعراء نے اپنے اپنے اشعار پیش کیئے۔

اس دوران اسٹیج کے فرائض نوجوان لکھاری عطاء مہر  نے سرانجام دیئے، مبارک قاضی کی زندگی کے بارے میں ایک ڈاکیو منٹری بھی پیش کیا گیا۔

اس دوران عزت اکیڈمی کے سربراہ ملا مراد، ظہور زیبی، اکبر غمشاد، عزت اکیڈمی کے سابق صدر خدا رحم بلوچ، اقبال ظہیر، کامل بلوچ، زوہیب اور دیگر نے کہا کہ کسی بھی قوم کی شناخت اسکی زبان ہوتی ہے زبان کے بغیر قوموں کا وجود نامکمل ہے ہمیں خود اپنی زبان اور ثقافت کی رکھوالی کرنا ہے مگر افسوس بلوچ اپنی زبان اور پہچان سے غافل ہے یہ بڑا المیہ ہے۔ آج باقی دنیا اپنی مادری زبانوں کے موضوع پر تقاریب اور پروگرام منعقد کررہے ہیں ایک ہم ہیں جو اپنے وجود سے بھی دور بھاگ رہے ہیں اور ایک طرح سے اپنی زبان سے باغی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومیتوں کو وہ تمام ضروریات اور مواقع فراہم کریں جس سے وہ اپنی زبان کو آگے لے جاسکیں اور مادری زبانوں میں ایجوکیشن حاصل کریں 1988 میں اقوام متحدہ نے قرارداد پیش کی کہ قوموں کی مادری زبانوں کا دن منایا جائے گا بلوچ پارلیمنٹرین کو چاہیے تھا کہ وہ بلوچستان میں اپنے قومی زبان کو پروموٹ کرتے۔

انہوں نے کہاکہ تعلیم یافتہ طبقے کا فرض بنتا ہے کہ بلوچی پڑھیں اور زبان کے تحفظ اور فروغِ کے لئے کام کریں حکومت کو چاہیئے کہ پرائمری سے بچوں کو مادری زبان میں تعلیم دے تاکہ ان میں خود اعتمادی پیدا ہو مادری زبان کے بغیر بچے اپنی زبان سے ناواقف ہوتے ہیں بچوں کو مادری زبان میں تعلیم دینا چاہیے-

مقررین کا کہنا تھا ہمسایہ ملک میں 80 مادری زبانوں میں تعلیم دی جارہی ہے اور مختلف زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا ہے جنوبی افریقہ جیسے پسماندہ ملک میں 11 زبانوں، ناروے میں 70 زبانوں میں تعلیم دی جاتی ہے اردو بھی ان میں شامل ہے زبان سے قوم کی پہچان ہوتی ہے، زبان کے تحفظ کے لیے ہر فرد کو جہدوجہد کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا بلوچی زبان حکومتی سرپرستی سے محروم ہے، اس ترقی یافتہ جدید دور میں بلوچی زبان زبوں حالی کا شکار ہے۔ زوہیب بلوچ نے مبارک قاضی کی زندگی اور شاعری پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مبارک قاضی نے اپنے پوری زندگی بلوچی زبان کی ترویج وترقی اور خدمت میں گزاری۔

پروگرام کے دوسرے حصے میں شعراءنے اپنے اپنے کلام پیش کئے ان میں پروفیسر اکبر غمشاد ظہور زیبی شاہی بلوچ علم خان، نجیب قاضی، زبیر واھگ، ولی نور خدارحم پروفیسر اکبر غمشاد۔ نادر نثار اور دیگر نے دیوان کو محضوظ کیا۔