غزہ: فائرنگ کی زد میں آنے والی چھ سالہ ہند کی لاش 12 دن بعد ایک کار سے برآمد

119

غزہ میں اس چھ سالہ لڑکی کی لاش 12 دن کے بعد ملی ہے جو اپنے خاندان کے ہمراہ اسرائیل کی فوج کے حملے کی زد میں آ گئی تھی۔

امدادی کارکنوں کو بچی کے ساتھ اس کے خاندان کے پانچ افراد اور ایمبولنس میں موجود دو امدادی کارکنوں کی لاشیں ملی ہیں جو انہیں بچانے کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (پی آر سی ایس) نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر اس ایمبولینس کو نشانہ بنایا جو ہند رجب کو بچانے کے لیے بھیجی گئی تھی۔

اس نے مدد کی درخواست کرتے ہوئے ٹیلی فون پر کئی گھنٹے گزارے تھے اور پسِ منظر میں گولیوں کی آوازوں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔

ہلال احمر نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر ریڈکریسنٹ کے عملے کو نشانہ بنایا جب کہ ہند رجب کو بچانے کے ایمبولینس بھیجنے سے پہلے فوج سے رابطہ کیا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے ریڈ کریسنٹ کے بیان پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت کام کرنے والی خبر ایجنسی ’وفا‘ نے رپورٹ کیا کہ ہند کی لاش اس کے چچا اور خالہ اور ان کے تین بچوں کے ساتھ غزہ کے مضافاتی علاقے تل الحوا میں ایک اسکوائر کے قریب ایک کار میں ملی۔

پی سی آر ایس نے ایمبولینس کی ایک تصویر جاری کی ہے جو تقریباً مکمل طور پر جلی ہوئی تھی۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ ایمبولینس کار سے محض چند قدموں کی دوری پر تھی اور وہ گولیوں سے چھلنی تھی۔

ہند رجب کو کس کرب سے گزرنا پڑا تھا، اس کا اندازہ بات چیت کی اس آڈیو کلپ سے ہوتا ہے جو انہوں نے 12 روز قبل امدادی کارکنوں سے کی تھی۔

اسرائیل حماس جنگ سات اکتوبر کو اس وقت شروع ہوئی تھی جب حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیل پر حملہ کیا جس میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 253 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

حماس کے زیرِ انتظام غزہ کے محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق اس جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کے حملوں میں لگ بھگ 28 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کی ہلاکتوں سے ہر ممکن بچنے کے لیے اقدامات کرتی ہے۔

شہری ہلاکتوں کی کثیر تعداد پر اسرائیل کو سخت بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔

ریڈ کریسنٹ نے رواں ماہ کے شروع میں امداد کے لیے موصول ہونے والی فون کالز کے آڈیو کلپ جاری کیے تھے۔

پہلی فون کال ہند رجب کی نوعمر کزن لایان حمادہ کی تھی جو کہہ رہی تھی کہ اسرائیلی ٹینک ان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پھر گولیاں چلنے اور اس کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔

آڈیو کلپ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہند رجب اس حملے میں زندہ بچنے والی واحد فرد تھی۔

وہ امدادی ایمبولینس بھیجنے جانے سے قبل تین گھنٹوں تک فون لائن پر رہی جس دوران ایمبولینس بھیجنے کی تیاری کرتے ہوئے اسے تسلی دینے کی کوشش کی گئی۔

ہند رجب کے ایک اور آڈیو کلپ میں اسے روتے ہوئے یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ’’آو اور مجھے لے جاؤ۔ میں بہت ڈری ہوئی ہوں۔ پلیز آ جاؤ۔‘‘

پی سی آر ایس نے کہا ہے کہ ثالثوں کے ذریعے اسرائیلی فوج کے ساتھ رابطے اور ان کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد، محفوظ ہونے کا تعین کرتے ہوئے کہ ایمبولینس کے ساتھ دو کارکنوں یوسف زینو اور احمد المادون کو بھیجا گیا۔

رملہ میں ریڈ کریسنٹ کے ترجمان نبیل فرسخ نے دعویٰ کیا کہ ٹیم کے ساتھ ہماری آخری بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے انہیں لیزر کی شعاع سے نشانہ بنایا۔ اس کے بعد ہم نے گولیوں کی آوازیں کی سنیں، پھر دھماکہ ہوا۔

اس کے بعد ایمبولینس ٹیم اور ہند رجب، دونوں سے رابطہ ٹوٹ گیا جس سے ان کے اہل خانہ، ساتھیوں اور دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کو ان کی سلامتی کے بارے میں فکر ہوئی۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے ترجمان نے ‘رائٹرز‘ کو بتایا کہ ایسے میں جب کہ ہم مسلسل یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فی الحقیقت کیا ہوا تھا، ہم اس بات کا اعادہ کرنا چاہیں گے کہ شہریوں کی لازماً حفاظت کی جانی چاہیے۔ کسی بھی بچے کو کبھی بھی، جو اپنے خاندان کے افراد کی لاشوں میں گھرا ہوا ہو، اپنی زندگی کے لیے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ امکانی طور پر ہند کے لیے آخری لمحات تباہ کن اور ناقابل برداشت تھے۔