خارکیف پر روسی ڈرون حملہ، سات افراد ہلاک

149

یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں ایک پیٹرول اسٹیشن پر رات گئے روسی ڈرون حملے میں تین بچوں سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے۔ آس پاس کے علاقوں میں ایندھن کے تیز رفتار پھیلاؤ کی زد میں آکر چند رہائشی زندہ جل گئے۔

خارکیف کے مقامی حکام نے ہفتہ 10 فروری کو بتایا کہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب خارکیف میں ہونے والے روسی ڈرون حملے کا نشانہ ایک پٹرول اسٹیشن بنا جس کے نتیجے میں لگنے والی آگ سے ایندھن تیزی سے آس پاس کی  گلیوں میں پھیل گیا۔ حکام کے مطابق اس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہوئے جن میں تین بچے بھی شامل تھے جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے۔

حملے میں زخمی ہونے والے اولیسکندر لگوٹین نے کہا، ”پانچ منٹ میں ہمارے پاس آگ کا دریا بہہ رہا تھا۔ ہمیں گھر سے بھاگنا تھا، بس بھاگنا تھا۔‘‘

مقامی حکام نے بتایا کہ آگ لگنے سے ایک جوڑے اور ایک خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والے جوڑے کی ایک رشتہ دار نتالیہ نے جو خود بھی زخمی ہوئی ہیں، کہنا تھا کہ اُن کی ساس نے فون کیا اور کہا کہ وہ  جل رہی ہیں۔ نتالیہ کے بقول، اُس کی ساس کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں اور وہ کہہ رہی تھیں کہ آگ گھر تک پھیل گئی ہے۔ نتالیہ نے مزید کہا،” ہم نے آخری چیخیں سنی تھیں اور بس، اب ان سے کوئی رابطہ نہیں رہا۔‘‘

خارکیف کے علاقائی گورنر اولیگ سینیگوبوف نے کہا کہ جل کر بھسم ہو جانے والے خاندان میں والدین اور ان کے سات سالہ، چار سالہ اور سات ماہ کے لڑکے شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خاتون خانہ اور لڑکوں نے باتھ روم میں پناہ لی تھی جبکہ ان کے شوہر کی لاش گھر کی ایک راہداری سے ملی۔

یوکرین کے صدر وولودیمیر  زیلنسکی  نے ہلاک ہونے والے بچوں کے بارے میں کہا، ”انہوں نے تو ابھی زندگی دیکھی ہی نہیں تھی لیکن روسی جنون کے نتیجے میں مارے گئے۔‘‘زیلنسکی نے حملے کے تمام متاثرین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ یوکرینی  صدر  کے معاون اینڈری یرماک کے مطابق حملہ کرنے والوں کو اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔

خارکیف کی تفتیشی پولیس کے سربراہ سرگئی بولوینوف کے مطابق لگ بھگ 3,800 ٹن ایندھن کو اس آئل ڈپو میں ذخیرہ کیا گیا تھا جسے نشانہ بنایا گیا ۔ بولوینوف نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، ”پوری گلی ایک پگھلے ہوئے جہنم میں تبدیل ہو گئی، برف کے ساتھ ملا  ایندھن جلنا شروع ہوگیا، گلی کے ساتھ والے گھروں میں آگ لگنے لگی۔‘‘ مقامی حکام نے بتایا کہ کم از کم 50 افراد کو وہان سے نکالا  گیا ہے۔

 یہ 2022 ء کے خزاں میں روسی افواج سے واپس لیے جانے والے شمال مشرقی شہر خارکیف پر مہلک حملوں کے سلسلے میں تازہ ترین حملہ تھا۔

یوکرین میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مشن نے شہر خارکیف میں 17 شہری ہلاکتوں اور 168 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ریکارڈ کی ہیں جو مذکورہ حالیہ ہلاکتوں کے علاوہ ہیں۔ مجموعی طور پر، روس نے 31 ڈرونز  مشرقی خارکیف اور جنوبی اوڈیسا کے علاقوں پر یرسائے، جن میں سے 23 کو تباہ کر دیا گیا۔

 اس خطے کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ اولیگ کیپر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر بتایا کہ اوڈیسا میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اُدھر مغربی رہنماؤں نے  یوکرین کی مزید امدد کی اپیل کی ہے۔ جرمن چانسلر اولاف شولس اور صدر جو بائیڈن نے جمعہ کو امریکی قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ یوکرین کے لیے طویل عرصے سے تاخیر کے شکار فوجی امدادی پیکج کی منظوری دیں اور خبردار کیا کہ کییف اس کے بغیر روس کے حملے کو روک نہیں سکتا۔

بائیڈن نے جمعہ کے روز اوول آفس میں جرمن چانسلر کی میزبانی کرتے ہوئے کہا تھا ،”یوکرین کی حمایت نہ کرنے میں امریکہ کی کانگریس کی ناکامی مجرمانہ غفلت  ہے۔‘‘

مغربی دفاعی اتحاد  نیٹو کے وزرائے دفاع یوکرین  میں روس کے حملے کی دوسری برسی سے ایک ہفتہ قبل جمعرات کو برسلز میں ملاقات کریں گے۔ اس موقع پر یوکرین کے دفاعی رابطہ گروپ کا اجلاس مذاکرات خاص اہمیت حاصل ہوگی۔