حکام ہدایت لوہار کے قتل کی تحقیقات کرے – ایمنسٹی انٹرنیشنل

203

ہدایت لوہار قتل پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنان کو درپیش خطرات کو بے نقاب کرتا ہے – ایمنسٹی انٹرنیشنل

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جاری کردہ اپنے بیان میں پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سندھی سیاسی کارکن اور استاد ہدایت اللہ لوہار کے قتل کی آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کے سندھی کارکن کا قتل پاکستانی میں انسانی حقوق کے کارکنان کو لاحق سنگین خطرات کو اجاگر کرتا ہے، 2017 میں لوہار کو زبردستی لاپتہ کر دیا گیا اور صرف دو سال بعد مئی 2019 میں وہ بازیاب ہوگئے تھیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں مسلح افراد کی جانب سے ہدایت لوہار کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا، مقتول وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی رہنما سورٹھ لوہار اور سسی لوہار کے والد تھے۔

ہدایت لوہار کے قتل کے خلاف گذشتہ روز سے لواحقین کا دھرنا جاری ہے اس حوالے سے ہدایت لوہار کی بیٹی اور وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ سورٹھ لوہار نے والد کے قتل کا الزام پاکستانی خفیہ اداروں پر عائد کی ہے۔

سورٹھ لوہار نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو میں کہا ہے کہ انکے والد کی جبری گمشدگی و بعد ازاں بازیابی کے بعد بھی کئی مرتبہ انھیں دوبارہ جبری گمشدگی کا نشانہ بنانے کی کوشش گئی-

ہدایت لوہار کی بیٹی نے عالمی اداروں اور اقوام متحدہ سے درخواست کی ہے کہ وہ والد کے قتل حوالے پاکستان سے سوال کرے اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں انکی مدد کریں۔