بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں پر خاموش پارلیمانی پارٹیاں چند ووٹوں کے غائب ہونے پر احتجاج کررہے ہیں۔ ماما قدیر بلوچ

275

‏بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے جانب سے قائم احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے آج 5335 ویں روز جاری رہا۔

اس موقع پر مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہاکہ ریاستی ادارے بلوچستان میں جبر کی پالیسیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ آئے روز پاکستانی خفیہ ادارے اور فوج گھروں میں گھس کر لوگوں کو لاپتہ کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچ عوام سراپا احتجاج ہیں ، ہزاروں نے لوگ دھرنے دئے لیکن کسی پارلیمانی پارٹی نے شرکت نے ایک منٹ کے لئے شرکت نہیں کی،آج انکے چند ووٹ غائب ہوئے تو سڑکوں پر نکل آئیں ۔

انہوں نے کہاکہ بلوچ قوم متحد ہوکر جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھائے۔آج لواحقین کو ہماری آواز کی ضرورت ہے۔