بلوچستان میں انتخابات دھاندلی میں کور کمانڈر کوئٹہ اور سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی ملوث ہیں ۔ سردار اختر جان مینگل

250

بلوچستان میں قوم پرست جماعتوں کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کیخلاف احتجاج بدستور جاری ہے۔ چار جماعتی اتحاد گذشتہ کئی روز سے ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے دھرنا دیئے ہوئے ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس دھرنے کا حصہ ہیں۔

آج بروز اتوار چار جماعتی اتحاد کی کال پر بلوچستان بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال اور پیہہ جام ہڑتال کی جارہی ہے۔

گذشتہ روز کوئٹہ میں ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے جاری چار جماعتوں کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ میں ہمارے مینڈیٹ چوری کاالزام نام نہاد نگران وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کو نہیں دوں گا، اس کا ذمہ دار ریاست کا سربراہ ہے، 7 کو 704 اور 8 کو 814 والا کھیل صرف بلوچستان نہیں پورے ملک میں کھیلا گیا، 2018 میں فیض آباد جبکہ 2024 میں فیصل آبادیوں کو کامیاب کرایا گیا، یہ سب نکے کے ابا کے کمالات ہیں، میں کوئٹہ مستونگ قلات خضدار اور بلوچستان کے دیگر علاقوں کے کارکنوں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے بلوچستان نیشنل پارٹی اور چار جماعتی اتحاد کے امیدواروں کو ووٹ دیکر کامیاب کرایا لیکن انہیں فرشتوں نے ووٹ نہیں دیا۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا جس میجر، کرنل ،بیریگیڈیئر نے آئین کی خلاف ورزی کی انہیں فوج سے نکال کر نشان عبرت بنایا جائے، بلوچستان سے 70 ارب روپے لوٹ لئے گئے جو عوام کے جیبوں سے نکلیں گے، ہمیں کسی سے وطن کی دوستی یا وفاداری کا سرٹیفکیٹ نہیں چاہیئے، یہ پارلیمنٹ اس وقت مضبوط ہوگا جب اس کا پہلا قرارداد یہ ہوگا کہ پاکستان کی سیاست میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوگا اور ہم پارلیمان میں انہی ساتھیوں کو سپورٹ کرینگے جن کا پہلا قرارداد یہ ہوگا، ہم بڑے خطرناک لوگ ہیں ہم بندوق یا ڈنڈے نہیں اٹھائیں گے ہمارا جمہوریت سے عشق ہے جس طرح مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم احتجاجاَ جائینگے، نوازشریف ہمارے آنکھوں کا تارا تھا جب وہ آئین کے ساتھ کھڑا تھا ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتا تھا، شہباز شریف نے کہاتھا کہ میں 30 سال سے اسٹیبلشمنٹ کے آنکھوں کا تارا ہوں پھر کیا ڈاکٹر مالک بلوچ یا سردار اختر مینگل ان کو ووٹ دے گا؟ کمشنر راولپنڈی نے ہمت کی بلوچستان کے ریٹرننگ آفیسران بھی ہمت کریں اور کہہ دے کہ کونسا سیٹ کون جیتا ہے ہم اور آپ نے یہاں رہنا ہے۔

سرداراخترجان مینگل نے دوبار فرشتوں کا لفظ استعمال کیا فرشتے بڑے مقدس ہوتے ہیں یہ جنات کے بچوں کے خلاف سورة یاسین اور سورة الرحمن پڑھ کر ان کو بھگانا ہے۔

انتخابات میں دھاندلی کیخلاف چار جماعتی اتحاد کی جانب سے جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ہزارہ ڈیمو کریٹک موومنٹ کے عبدالخالق ہزارہ نے کہاہے کہ جعلی ایم این ایز و ایم پی ایز قطعاََ نامنظور ہیں، جمہوری لوگوں کو پیچھے دھکیلا جارہا ہے تاکہ ایسے گونگے اور بہرے نمائندے لائے جائیں جو بلوچستان کے وسائل کے لوٹ مار پر خاموشی اختیار کریں پوری دنیا میں انتخابات ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں واحد ملک پاکستان ہیں جہاں کچھ قوتیں عوام کے مینڈیٹ کو چوری کرکے ایسے گونگے اور بہریں لوگوں کو کامیاب کرکے اسمبلی بھیجتے ہیں تاکہ وہ بلوچستان کے وسائل کے لوٹ مار پر خاموش رہ سکیں۔

نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ نے چار جماعتی اتحاد کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جعلی ایم این اے جعلی ایم پی اے نامنظور ہیں ہمارے خواتین اور سیاسی کارکنوں نے گھر گھر جاکر عوام کو اور جمہوریت کو ووٹ کیلئے راضی کیا لیکن ایک بار بھر بلوچستان بلکہ تمام ملک میں آمرانہ طرز پر عوام کے مینڈیٹ کو چوری کیا آج پورا بلوچستان سراپا احتجاج ہے ایک سازش کے تحت قوم پرستوں کو الیکشن میں ہرایا گیا میرے مقابلے میں جس کو جتوا یا ہے اور چالیس ہزار ووٹ دلائے ہیں اگر وہ تربت کے چالیس دیہات کے نام بتائے تو میں اسکی کامیابی کا مبارک باد دوں گا۔

انہوںنے کہا کہ خان عبدالصمد خان اچکزئی، نواب غوث بخش بزنجو، نواب اکبر خان بگٹی، نواب خیر بخش مری اور سردار عطا اللہ مینگل نے پارلیمنٹ میں باکردار لوگوں کے حیثیت سے حصہ لیا لیکن بد قسمی سے اس مرتبہ سمگلروں کو بھاری بھرکم رقوم کے عوض سیٹیں بیچ دی گئی ہیں۔