8 فروری کا دن جمہوریت دشمنوں کی موت کا دن ثابت ہوگا۔ سردار اختر مینگل

313

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ عوام 8 فروری کے دن بلوچستان کو مال غنیمت سمجھنے والوں کے عزائم کو ناکام بنادیں انتخابی نتائج تبدیل کئے گئے تو جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی جس کے خلاف پارٹی سڑکوں پر ہوگی اوربلوچستان کو بکاﺅ مال سمجھ کر لوٹنے والوں کو شکست دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ کوئٹہ میں دفعہ 144 کا نفاذ ان کو جمہوری جہدوجہد سے باز نہیں رکھ سکتا اللہ گنجے کو ناخن نہ دے پانچ پانچ ہزار میں ووٹ خریدنے والا زرداری لوگوں کا ضمیر نہیں خرید سکتا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ کے علاقے سریاب میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سردار اختر مینگل نے کہا کہ پارٹی کے جلسوں میں عوام اور کارکنوں نے بھرپور شرکت کرکے 8 فروری سے قبل ہی اپنا فیصلہ سنادیا ہے سیاسی کارکن اپنی توجہ حکمت عملی سے طے کریں الیکشن کے نتائج تبدیل کرنے والی خلائی مخلوق نے اپنے اداروں کی ساکھ تباہ کی ہے۔ سریاب کے بزرگ اور سیاسی رہنماءقابل ستائش ہیں جنہوں نے دھرتی کے لئے کام کرنے والی سیاسی جماعتوں کا ساتھ دیا ۔

انہوں نے کہاکہ سریاب کا علاقے ڈکٹیٹر شپ میں سیاسی اکابرین کی پناہ گاہ رہا ہے بلوچستان کی محبت عوام کے دلوں سے ختم نہیں کی جاسکتی ان کا کہنا تھا کہ 4حلقوں سے انتخاب لڑنے کا مقصد ان قوتوں کو شکست دینا ہے جنہوں نے ماں بہنوں کو بیوہ کیا ہے الیکشن میں بلوچستان کو لاوارث اور مال غنیمت سمجھنے والوں کو شکست دینا ہے ووٹ کی طاقت سے ان سیاسی جماعتوں کو شکست دینی ہے جو صوبے کو بکاﺅ مال سمجھتی ہے نعروں سے عوام کو تقسیم کرنے والوں کے عزائم کبھی پورے نہیں ہونگے 5سال حکومت کرنے والے پہلے زرغون کا پہاڑ کاٹ کر دکھائےں پھر بلوچستان کو کاٹنے کی بات کریں اپنے مفاد کے لئے بلوچ پشتون کو تقسیم کر نے والوں کو باشعورپشتون جان چکے ہیں سیاسی مفادات کے لئے کباڑ کی دکان چمکانے کا وقت گزر چکا میرے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے لئے سابق آمر ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے زمانے کی ایف آئی ار نکالی گئی غلط پالیسیوں کی وجہ سے لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کی گئی نفرت کی دیواریں کھڑی کرکے قوم پرستی کی سیاست کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی سیاسی جماعتوں نے بلوچوں کے ساتھ زیادتیوں پر خاموشی اختیار کئے رکھی تحریک انصاف کی حکومت میں تسلیم کیا گیا کہ یہاں لوگ لاپتہ ہیں ان کے لئے آواز اٹھانے پر کاغذات نامزدگی مسترد ہوتے ہیں تو آج ہی کر دیئے جائیں پارٹی رہنماﺅں کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف سپریم کورٹ تک رسائی لی جارہی ہے تربت سے اسلام آباد تک جانے والی بچیوں کے ساتھ جو سلوک ریاست نے کیا وہ سوتیلی ماں بھی اپنی بچیوں کے ساتھ نہیں کرتی ماضی میں پارٹی کے 700کارکنوں کو لاپتہ افراد کے لئے آواز بلند کرنے پر پابند سلاسل کیا گیا دفعہ 144کے نفاذ سے ہم سیاسی جمہوری جہدوجہد سے باز نہیں آئےں گے خدا گنجے کو ناخن نہ دے عوام 8فروری کو پارٹی کے نامزد امیدواروں کے انتخابی نشان کلہاڑی کو یاد رکھیں اور اس پر مہر لگاکر امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کو الیکشن میں آگے آنے سے روکا گیا تو جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔ انتخابی نتائج تبدیل کئے گئے تو عوام سڑکوں پر نکلیں گے کیونکہ بی این پی کا مقابلہ ان لوگوں سے ہے جنکے ہاتھ بلوچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ۔پانچ پانچ ہزار میں ووٹ لینے والے زرداری بھٹو کو زندہ کرنے کا کہہ کر عوام کو بے وقوف نہ بنائےں ۔بلوچستان کے لوگوں کا ضمیر کوئی خرید نہی سکتا کاغذات نامزدگی داخل کرانے کے بعد ووٹر لسٹ میں اندراج کون سی جمہوریت ہے 8فروری کا دن جمہوریت دشمنوں کی موت کا دن ثابت ہوگا