بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری قومی جلسہ میں اعلان کیا گیا کہ ہر سال 25 جنوری کو یوم بلوچ نسل کشی کے طور پر یاد کیا جائے گا۔
اعلان کے مطابق ہر سال 25 جنوری کو بلوچ نسل کشی کے طور پر منایا جائے گا، جب اسی روز بلوچستان سمیت دیگر ممالک میں پروگراموں کا انعقاد کرکے بلوچ نسل کشی کے بارے میں دنیا کو آگاہ کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ بلوچ نسل کشی کے خلاف کوئٹہ کے شاہوانی اسٹیڈیم میں قومی جلسہ عام جاری ہے، جس میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں ۔
یاد رہے ک جنوری میں توتک مژی سے اجتماعی قبریں ملی تھی ان اجتماعی قبروں کی نشاندہی 2014 میں ایک چرواہے نے کیا تھا۔ ان قبروں سے کل ایک سو انہتر لاشیں برآمد ہوئیں، جن کی حالت اس قدر خراب تھی کے بعض کی صرف باقیات (ہڈیاں) ہی رہ گئی تھی۔ ان لاشوں میں سے صرف دو کی پہچان ہوئی جن کا تعلق بلوچستان کے علاقے آواران سے تھا مذکورہ دونوں افراد جبری طور پر لاپتہ کیے گئے تھے۔
توتک سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے عالمی انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ایک ہنگامی اپیل جاری کی تھی جبکہ لواحقین کی جانب سے مختلف اوقات میں مظاہرے کیئے جاچکے ہیں لیکن تاحال مذکورہ افراد بازیاب نہیں ہوسکے ہیں۔