کمبر چاکر اور شہید الیاس نزر تنظیم کے نظریاتی اور فکری ساتھی تھے۔دْرپشان بلوچ

161

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے تنظیم کے سابق مرکزی کمیٹی کے رکن شہید کمبر چاکر اور شہید الیاس نزر کو ان کی 13ویں برسی کے موقعے پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کمبر چاکر ایک نظریاتی اور پختہ سوچ کے مالک سیاسی رہبر تھے، انہوں نے بہت ہی کم عرصے میں اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کے بل بوتے پر بہت سے نمایاں تبدیلیاں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اُن کی بے باک انداز گفتگو اور علمی ذہانت موجودہ سیاسی جہدکاروں کیلئے مشعل راہ ہے۔ کمبر نے جیل سے لیکر سخت سے سخت حالات میں بھی مطالعے کے عمل کو ترک نہیں کیا، جس سے ان کے افکار اور خیالات کو جلا ملی۔ بلوچستان کے کسی بھی سیاسی ورکر کیلئے کمبر چاکر اور الیاس نزر بطور سیاسی جہدکار اعلی مثال ہیں، جن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے موجودہ سیاسی جہدکار اپنے فکر اور نظریات کی تشکیل کریں۔

چیئرمین درپشان بلوچ نے کہا کہ ریاست نے بی ایس او آزاد کے فکری اور نظریاتی قیادت کو نشانہ بناتے ہوئے کوشش کی کہ بلوچستان کے نوجوانوں کے ذہن سے بی ایس او آزاد کے فکر و افکار کو ختم کیا جائے، لیکن ان نظریاتی اور فکری ساتھیوں کے خون نے بھی بلوچ نوجوانوں کے فکری اور علمی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ کمبر چاکر نے خود کہیں پر کہا تھا کہ شہدا ء کا خون ہماری لٹریچر ہے، آج بلوچ نوجوانوں کیلئے کمبر چاکر، الیاس نزر، کامریڈ قیوم، شہید رسول جان اور دیگر فکری اور نظریاتی ساتھیوں کی شہادت بطور لٹریچر ان کی ذہنی اور فکری بالیدگی میں کردار ادا کر رہی ہے۔ ان عظیم جہدکاروں نے بلوچ نوجوانوں پر واضح کرد یا تھا کہ قومی آزادی کے فکر و فلسفے پر گامزن رہتے ہوئے ہمیں کسی بھی طرح کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ کمبر چاکر کہیں پر کہتا ہے کہ ہمیں دشمن کو ان کے ٹارچرسیلوں میں یہ باور کرانا ہے کہ بلوچ قوم پاکستان کے قبضے کو قبول نہیں کرتا اور انہوں نے عملا ریاست پر یہ واضح بھی کر دیا جس کے بعد ریاستی فورسز نے انہیں شدید ٹارچر کے بعد شہید کر دیا اور ان کی مسخ شدہ لاش پھینک دی۔ کمبر چاکر آج تاریخ کے پنوں میں سنہرے الفاظ میں امر بن چکا ہے اور ان کی قربانیاں آج ہزاروں بلوچ نوجوانوں کی ذہنی اور فکری تربیت کر رہے ہیں۔ بلوچ نوجوان بلخصوص سیاسی جہدکاروں کیلئے لازم ہے کہ وہ کمبر چاکر اور الیاس نزر جیسے مخلص اور باصلاحیت کیڈرز کے کردار کو پڑھ کر ان کے نقش قدم کو اپنائیں تاکہ انہیں جدوجہد کی راہ میں حائل چھوٹی رکاؤٹیں مایوس نہ کریں۔

چیئرمین درپشان بلوچ نے شہید کمبر چاکر اور الیاس نزر کو ان کی برسی کے موقعے پر بہترین الفاظ میں یاد کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ ان کردار کو مکمل پراموش کرتی ہے جو جدوجہد کی راہ میں چھوٹے بڑے مسائل کو جواز بناکر راہ فرار اخیتار کرتے ہیں بلکہ تاریخ ان کی بنائی ہوئی ہے جو ہر حالت میں اپنے فکر اور نظریے پر ڈٹ کر جدوجہد کو منزل مقصود تک پہنچانے کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرتے ہیں۔ قابض ریاست نے یہ سوچ کر شہید کمبر چاکر اور الیاس نزر کی لاش پھینکی کہ بلوچ نوجوان ڈر جائیں گے مگر نظریاتی جہدکار کا بہتا لہو کسی بھی سیاسی جہدکار کو خوفزدہ نہیں کرتا بلکہ ان کی تربیت کا سبب بنتی ہے۔ کمبر چاکر اور الیاس نزر بلوچ قومی آزادی تک نوجوانوں کی فکری اور علمی تربیت کرتے رہیں گے۔