عسکری حملوں میں 82 فیصد ہلاکت کی ذمہ دار ٹی ٹی پی، داعش و بی ایل اے قرار

457

بلوچستان و پاکستان میں عسکری حملوں میں 82 فیصد ہلاکت کی ذمہ دار ٹی ٹی پی، داعش و بی ایل اے کو قرار دیا گیا ہے ۔

پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز پاکستان (پی آئی پی ایس) کی جاری کردہ سیکیورٹی رپورٹ برائے 2023 میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، داعش خراسان اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسی تنظیمیں 2023 کے دوران حملوں کے نتیجے میں ہونے والی 82 فیصد سے زائد ہلاکت کی ذمہ دار ہیں جبکہ 78 فیصد حملوں میں ملوث ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ تنظیمیں پاکستان پر مذاکرات کا عمل بحال کرنے کا دباؤ بڑھانے کے لیے حملے جاری رکھیں گی۔

یہ رپورٹ وزارت داخلہ کی جانب سے سینیٹ کو یہ بتائے جانے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کی مسلسل آمد اور ان کی بھرتیوں، تربیت اور خودکش بمباروں کی تعیناتی کا سلسلہ ’تشویش کا باعث‘ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں سال 2023 کے دوران کل 306 حملے ہوئے، جن میں 23 خودکش بم دھماکے بھی شامل ہیں، ان حملوں میں 693 افراد (330 سیکیورٹی اہلکار، 260 عام شہری، اور 103 عسکریت پسند) جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ ایک ہزار 124 افراد زخمی ہوئے۔

سال 2023 میں ہونے والے حملوں میں سال 2022 کے برعکس 17 فیصد اضافہ ہوا اور ان حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بھی 2022 میں اسی طرح کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے مقابلے میں 65 فیصد زیادہ ہے۔