تنظیم کے کیڈرز آج بلوچستان بھر میں ادارجاتی پروگرام کی نظریاتی ترجمانی کررہے۔ شبیر بلوچ

156

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے جاری بیان میں کہا ہے کہ تنظیم کی دوسری مرکزی کمیٹی کا اجلاس مرکزی چیئرمین شبیر بلوچ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا ۔ مرکزی کمیٹی اجلاس میں سیکرٹری رپورٹ ، تنقیدی نشست، تنظیمی امور، علاقائی اور عالمی سیاسی صورتحال کے ایجنڈوں پر مسلسل دو دن سیر حاصل بحث کی گئی اور آئندہ لائحہ عمل کےا یجنڈے میں مختلف فیصلے لینے کے بعد اجلاس اختتام پزیر ہوا۔

اجلاس کے پہلے دن مرکزی سیکرٹری جنرل کی جانب سے تنظیم کے سیکرٹری رپورٹ، زونل رپورٹس اجلاس میں پیش کیے گئے۔ اس کے بعد تنظیم کے تمام آئینی کمیٹیوں نے اپنے متعلقہ کارکردگی رپورٹس اجلاس میں پیش کیے۔ اجلاس میں تنظیم کے گزشتہ کارکردگی رپورٹس پر سیر حاصل بحث کے بعد پر تمام زونز کے سرگرمیوں کے حوالے سے مفصل گفتگو کا آغاز کیا گیاجس میں تمام زونز کی فعالیت، بلوچ لٹریسی کمپین، بلوچستان کتاب کاروان سمیت دیگر تنظیمی سرگرمیوں کے حوالے سے سیر حاصل بحث ہوئی۔

اجلاس کا دوسرا ایجنڈا تنقیدی نشست تھا جس میں سینٹرل کمیٹی کے اراکین نے تنظیم کے تمام سرگرمیوں کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ان پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔تنقیدی نشست کے ایجنڈے میں مرکزی زمہ داران نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں کی بہتری کےلیے تنظیم کے اندر تنقیدی عمل کو جاری رکھنا نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک سیاسی کارکن کو ہمیشہ خود تنقیدی کے عمل سے گزارنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی سیاسی سفر میں خود کو ہر طرح کی غیر سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھ سکیں۔ سیاسی سرگرمیاں اس وقت منظم ہو سکتی ہے جب ان کے ساتھ علم شامل ہو لیکن ایک سیاسی کارکن کے عمل میں اس وقت تک سنجیدگی اور پختگی نہیں آتی جب تک وہ خود کو مسلسل خود تنقیدی نگاہ سے نہیں دیکھے گا۔ اس لیے تنظیم کے تمام کارکنان اورکیڈرز اپنے سیاسی عمل میں خودتنقیدی سوچ کو پروان چڑھائیں تاکہ سیاسی عمل جو کہ کسی مقصد کےلیے کی جاری ہے اس میں مزید پختگی آئے۔
اجلاس پہلے دن ان دو ایجنڈوں پرسیر حاصل بحث کے بعد اجلاس کاختم کیا گیا اور اجلاس کے دوسرے دن کا آغاز تنظیمی امور کے ایجنڈے سے کیا گیا۔تنظیمی امور کے ایجنڈے میں مرکزی زمہ داران نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے دیگر اقوام کے نوجوانوں کے لئے قومی اور سیاسی عمل شاید ایک کتابی گفتگو ہو مگر ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم اس سیاسی عمل کو نا صرف اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں بلکہ اس کا حصہ ہیں۔ تنظیم نےبلوچ طلباء سیاست میں ایک جُدا حیثیت حاصل کی ہے اور پوری بلوچ قوم کےلیے ایک قومی درسگاہ کی صورت اختیار کررہی ہے۔ بساک کا پروگرام آج ایک مخصوص علاقے تک محدود نہیں بلکہ بلوچستان کے تمام کونوںتک پھیل چکی ہے اور بلوچ سماج میں علمی و فکری شعور کی کرنیں جلا رہی ہے۔ آج جس طرح بساک وسعت اختیار کررہی ہے تو تنظیم کے تمام کارکنان کو سمجھنا ہوگا کہ ہم جتنا زیادہ نوجوانوں کو اس پروگرام سے وابستہ کرینگے ہماری زمہ داریاں بھی اسی طرح بڑھتے رہینگے جن کو نبھانے کیلئے ہمیں خود کو سیاسی اور علمی حوالے سے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

تنظیمی امور کے ایجنڈے کے آخر میں چیئرمین شبیر بلوچ نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ طلباء سیاست میں نمائندہ تنظیم کی حیثیت سے ہم نے بلوچ طالبعلموں کی سیاسی اور علمی سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہوئے ان کی سیاسی اور ذہنی تربیت کا زمہ اپنے اپنے کندھوں پر اٹھایا ہے۔ ہم بلوچ نیشنلزم اور قومی تشکیل کے عمل پر کاربند سیاسی کارکن ہیں اس لیے ہمیں سمجھنا ہوگا کہ صرف اپنی زات کی سیاسی بالیدگی نہیں بلکہ تمام بلوچ نوجوانوں کی سیاسی اور علمی تربیت کا زمہ ہمارے کندھوں پر ہے اور اسے حسن طریقہ سے نبھانے کی ضرورت ہے۔ اپنے آس پاس موجود بلوچ نوجوانوں کو اپنی سیاسی اور شعوری سرکلز کا حصہ بناتے ہوئے ان کی علمی اور فکری تربیت کرنا بھی ہمارا کام ہے۔ آج تنظیم نے اپنے ممبران کو اس حد تک علمی اور فکری حوالے سے مضبوط کیا ہے کہ وہ بلوچستان کے کونے کونے میں تنظیمی پروگرام کے تحت منظم انداز میں کام کر رہے ہیں۔ ہم فخر سے کہتے ہیں کہ تنظیم کے مرکزی قیادت سے لیکر یونٹ ممبران کی انتک محنت اور کوششوں کے بعد آج تنظیمی پروگرام بلوچستان کے کونے کونے میں پہنچ چکا ہے اور کام کر رہا ہے۔ اسی سیاسی عمل کی بدولت آج بلوچستان کے اندر قومی شعور روز بروز منظم ہوتاجا رہا ہے۔ بلوچ نوجوان اپنے معاشرےکے سیاسی حالات کو سمجھتے ہوئے معیاری سیاسی لٹریچر کو پڑھنےکی طرف اپنا روجھان بنائیں تاکہ وہ قومی تشکیل کے عمل سے آشنا ا ہوں اور سماج کے اندر اپنا بہتر کردار ادا کر سکیں۔

تنظیمی امور کے ایجنڈے کے بعد عالمی و علاقائی سیاسی صورتحال کا ایجنڈا زیربحث رہا جس میں تنظیمی دوستوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ جدوجہد آج دیگر مظلوم اقوام کیلئے ایک مثال بن گئی ہے۔ انہی سیاسی جدوجہد کی بدولت آج بلوچ سماج کے اندر ایک سیاسی شعور جنم لے چکی ہے جہاں بچوں و خواتین سے لیکر بزرگ تک اپنی زمہ داریوں سے آگاہ ہیں۔ سیاسی جدوجہد کے سامنے ہمیشہ مختلف رکاؤٹیں ڈالی گئی ہیں اور آئندہ بھی سیاسی کارکنوں کو ان مشکلات سے گزرنا پڑے گا لیکن بلوچ نوجوانوں کو سمجھنا چاہیے کہ سیاسی جدوجہد کی سماج کے اندر اپنی اہمیت ہے جو سماج کو بدلنےمیں اہم کردار ادا کرتا ہے اس لیے ہمیں مزید شدت سے اس عمل سے جڑنا چاہیے اور دیگر نوجوانوں کو اس عمل کا حصہ بنانا چاہیے۔ عالمی سیاست پر بات کرتے ہوئے دوستوں نے کہا کہ آج عالمی سیاست طاقت کے یک طرفہ مرکز سے نکل کر ملٹی پل طاقت کی جابن گامزن ہے۔ دنیا میں اب ایک یا دو بلاک نہیں بلکہ کئی بلاکس بن چکےہیں جو اپنے اپنے مفادات کیلئے سرگرم عمل ہیں اور مختلف اتحاد بنتے سامنے آ رہے ہیں۔ بلوچ نوجوانوں کو اپنے ارد گرد بدلتے حالات سے صرف آگاہی نہیں بلکہ انہیں سمجھنے کیلئے زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ خطے میں بدلتے سیاسی حالات سے آگاہ ہوں اور بلوچ قومی تحریک کےلیے نئی راہیں تلاش کر سکیں۔ کسی بھی قوم کے علاقائی حالات اُس پر اہم اثر ڈالتے ہیں اور اس خطے میں بدلتے حالات کے اثرات بلوچستان پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

اجلاس کا آخری ایجنڈا آئندہ لائحہ عمل تھا جس میں مرکزی زمہ داران نے تنظیمی امور کے دیے گئے تجاویز پر سیر حاصل بحث کے بعد مختلف فیصلے لیے گئے۔ جن میں اس سال مادری زبانوں کے عالمی دن کو مبارک قاضی کی نام سے منسوب کرکے ان کی یاد میں پسنی میں پروگرام کا انعقاد، مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقعے پر کتابچہ شائع کرنے، بچوں کیلئے گام کلاسز کا انعقاد کرنا، شال اور نصیر آباد میں صبا فیسٹیول کا انعقاد، دو مارچ بلوچ کلچر ڈے کے دن پروگرامات کا انعقاد، بلوچ لٹریسی کمپین کو مزید مضبوط کرتے ہوئے انٹریکٹیو سیشنز میں سائنس سے متعلق مواد پیش کرنا اور وقتا فوقتا بلوچستان کے تعلیمی صورتحال پر رپورٹ شائع کرنا، بلوچستان کتاب کاروان کو مزید منظم کرنا، گام اور نوشست میگزین کو جلد از جلد شائع کرنا اور دیگر چھوٹے بڑے فیصلے لیے گئے۔
تمام ایجنڈوں پر سیر حاصل بحث کے بعد دو روزہ سینٹرل کمیٹی کا اجلاس اختتام پذیر ہوا۔