بلوچ یکجہتی کمیٹی کا اسلام آباد میں مظلوم اقوام کانفرنس کا انعقاد

211

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے سامنے بلوچ نسل کشی کے خلاف احتجاج کے 59 ویں روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیراہتمام ‘مظلوم اقوام کی بین الاقوامی کانفرنس’ منعقد کی گئی۔

کانفرنس میں بلوچ، پشتون، سندھی، رہنماؤں کے ہمراہ دیگر سیاسی، سماجی و انسانی حقوق کے تنظیموں کے ارکان، طلباء اور شہریوں کی بڑی تعداد اس کانفرنس میں شرکت کی۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے مظلوم اقوام کی عالمی کانفرنس میں پاکستان میں مختلف اقوام کے ساتھ ریاستی مظالم، جبری گمشدگیوں اور سیاسی مشکلات کے حوالے سے پینل ڈسکیشن سے ہوئے جہاں سیاسی رہنماؤں، پروفیسرز اور صحافیوں نے تفصیلی گفتگو کی-

اس کے علاوہ بلوچ تحریک اور خواتین کے کردار بارے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی اس دؤران لاپتہ افراد کے لواحقین نے اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کے دؤران اپنے زندگی کے بارے تفصیلات فراہم کئے اور جبری گمشدگیوں کے حوالے سے ایک ٹیبلو بھی پیش کیا گیا جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی جانب سے شائع کتابچہ بعنوان Marching beyond silence unveiling the brave struggle against baloch genocide مہمانوں کو پیش کیا گیا۔

کانفرنس کے پینسلٹ میں ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کے رہنماؤں، بلوچ ویمن فورم کے شلی بلوچ، وائس فار شیعہ مسنگ پرسنز کے راشد رضوی، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے ماما قدیر بلوچ، ہیومین رائٹس ڈفینس آف پاکستان کے آمنہ مسعود جنجوعہ، انسانی حقوق کے سندھی کارکن سارنگ جویو، پشتون رہنماء افراسیاب خٹک اور پی ٹی ایم بلوچستان کے زبیر شاہ آغا، براہوئی زبان کے پروفیسر منظور بلوچ، وکیل عمران بلوچ، پروفیسر ندا کرمانی اور صحافی منیزہ جھانگیر شامل تھیں۔

اتوار کے روز اس کانفرنس میں شرکت کیلئے آنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کانفرنس کے شرکاء، منتظمین کو پروفائلنگ اور ہراسگی کا بھی سامنا رہا جبکہ پولیس نے پریس کلب جانے والے تمام راستوں کو بند کردیا تھا-

پولیس رکاوٹوں کے حوالے سے بلوچ لانگ مارچ کی قیادت کرنے والی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا آج اس ریاستی دارلحکومت میں دنیا اس حکومت کے ظلم اور تشدد کی گواہی دے رہی ہے ریاست کی جانب سے گذشتہ رات سے مظلوموں کی بین الاقوامی کانفرنس میں رکاوٹیں ڈالنے، ساز و سامان چھیننے اور شرکاء کو روکنے کی کوششوں کے باوجود، ہم نے کامیابی کے ساتھ اپنی کانفرنس کا انعقاد کیا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست نے سپیکر، کرسیاں، میزیں اور دیگر اشیاء ضبط کر لیں اور آج صبح ہمارے بہت سے مہمانوں کو اس میں شامل ہونے سے روک دیا گیا، سڑکیں بند کر دی گئیں اور دھرنے کو خاردار تاروں سے گھیر لیا گیا تاہم، ہم نے ثابت قدمی سے، ضروری وسائل کے بغیر کانفرنس کا انعقاد کیا مجھے یقین ہے کہ یہ ہماری جیت ہے۔ ہم ظلم اور بربریت کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں، بلوچ نسل کشی کے خاتمے تک برداشت کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

ماہ رنگ بلوچ نے کہا اس مشکل وقت میں، ہم عالمی برادری سے غیر متزلزل اخلاقی حمایت کے خواہاں ہیں، امید ہے کہ دنیا ہماری آواز کو بلند کرے گی۔