بلوچستان میں حملوں اور دھماکوں کا سلسلہ جاری، مزید پانچ حملے

1180

حملوں میں ڈپٹی کمشنر، معدنیات لے جانے والی ٹرکوں، فورسز پوسٹ اور گیس پائپ لائن نشانہ بنے-

جنوری کا آخری سورج بلوچستان 13 حملوں کے ساتھ غروب ہوا جہاں نامعلوم افراد نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پاکستانی سیکورٹی فورسز، پولیس، ڈپٹی کمشنر، الیکشن کیمپئن، اور انتخابی امیدواروں کو ان حملوں میں نشانہ بنایا-

رات گئے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع کچی کے علاقے ڈھاڈر میں نامعلوم افراد نے ڈپٹی کمشنر کے گھر کو گرنیڈ حملے میں نشانہ بنایا دھماکے کے زد میں آکر گھر میں موجود ایک شخص زخمی ہوا ہے-

دوسری جانب بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تجابان میں مسلح افراد سی پیک روٹ پر فوجی چوکی حملے میں نشانہ بنایا جس میں فورسز کو جانی نقصانات ملنے کے اطلاعات ہیں-

ادھر بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں شہریوں نے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی ہے، تاہم دھماکہ کی نوعیت اور وجوہات بارے مزید تفصیلات آنا باقی ہے-

ایک اور حملے میں نامعلوم افراد نے بلوچستان کے ضلع قلات میں منگچر کے قریب پتھر لے جانی والی ٹرکوں کو کوئٹہ کراچی مرکزی شاہراہ پر فائرنگ کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ٹرکوں کے ٹائر تباہ ہوئے جبکہ فائرنگ کی زد میں آکر ڈرائیور زخمی ہوا ہے-

مزید برآں بلوچستان سے پنجاب جانے والے گیس پائپ لائن کو پنجاپ کے شہر صادق آباد میں نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد نصب کرکے تباہ کردیا جس کے باعث پنجاب کے مختلف شہروں کو گیس کی فراہمی معطل ہوکر رہ گئی ہے-

بدھ کے روز بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ہونے والے 13 حملوں میں 10 بم دھماکے اور تین فائرنگ کے واقعات شامل ہیں جن میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے-

آج ہونے والے حملے بلوچستان کے مختلف ضلع میں پیش آئے جن میں، کوئٹہ، خضدار، کیچ، آواران، کچی، قلات اور حب چوکی شامل ہیں ان حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کئے گئے تاہم اس سے قبل اس طرز حملوں کی ذمہ دار اکثریت بلوچ مسلح تنظیم ملوث رہے ہیں-