اسرائیل کے غزہ پر مہلک حملے، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ

192

حماس کے زیر انتظام فلسطینی علاقے کی وزارت صحت نے جمعرات کو کہا کہ محصور غزہ میں اسرائیلی بمباری میں درجنوں لوگ ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ لگ بھگ تین ماہ سے جاری جنگ سے علاقائی کشیدگیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔

یہ حملے ایسے میں ہوئے ہیں جب امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں، جو سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے، امریکہ کے اعلیٰ ترین سفارت کار کا خطے کا چوتھا دورہ ہے۔

اسرائیلی فوج نے، عسکریت پسند گروپ حماس کو تباہ کرنے کی اپنی مہم میں غزہ شہر کے ارد گرد اور خان یونس میں مزید حملوں کی رپورٹ دی ہے ۔ بیشترغزہ شہر اب ایک تباہ شدہ شہری جنگی زون بن چکا ہے ۔خان یونس علاقے کے جنوب کا سب سے بڑا شہر ہے ۔

غزہ کی وزارت صحت نے رپورٹ دی ہے کہ غزہ کی پٹی میں شہریوں کے گھروں پر جاری فضائی بمباری اور زمینی گولہ باری میں درجنوں لوگ ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہو ئے ہیں ۔

اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے خان یونس میں فوجیوں اور اسلحے کے ایک ڈپو کے قریب دھماکہ خیز مواد رکھنے کی کوشش کرنے والے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا تھا۔

بمباری کے باعث غزہ کے مرکزی علاقے دیر البلاح اور المغاز ی کے پناہ گزین کیمپوں میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے ۔

ایک رہائشی ابراہیم ال غمری نے اے ایف پی کو بتایا، ”لوگ اپنے گھروں میں محفوظ تھے، مکان بچوں سے بھرا ہوا تھا۔ وہاں لگ بھگ 30 لوگ تھے اچانک ان کے گھر ان پر گر گئے ۔ ان بچوں کا کیا قصور تھا؟

لبنان کی صورت حال

اسرائیل کے شمالی پڑوسی لبنان میں بھی کشیدگیوں میں اضافہ ہوا ہے جہاں بیروت میں ایک حملے میں حماس کے نائب سربراہ صالح العاروی ہلاک ہوگئے اس حملے کے بارے میں بڑے پیمانے پر خیال کیا جارہا ہے کہ اس کا ارتکاب اسرائیل نے کیا تھا۔

العاروی کو منگل کے روز ایران کی پشت پناہی کی حامل طاقتور حزب اللہ تحریک کے گڑھ جنوبی بیروت میں ہلاک کیا گیا تھا۔

حزب اللہ نے العاروری اور حماس کے چھ دوسرے ارکان کی ہلاکت کو لبنان پر ایک سنگین حملہ اور ایک خطرناک پیش رفت قرا ر دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ اس کا بدلہ لیا جائے گا۔

اسرائیل کے سرکاری اعدادو شما ر پر مبنی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سات اکتوبر کے حملے کے نتیجے میں لگ بھگ 1140 لوگ ہلاک ہوئے جن میں سے بیشتر عام شہری تھے۔ اسرائیل کے مطابق عسکریت پسندوں نے لگ بھگ دوسو لوگوں کو یرغمال بھی بنایا جن میں سے 129 ابھی تک غزہ میں ہیں۔

جوابی کارروائی میں اسرائیل نے اندھا دھند بمباری اور زمینی حملے کیے جس کے نتیجے میں غزہ ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے اور وزارت صحت کے مطابق کم از کم 22 ہزار 438 لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ غزہ کے 19 لاکھ لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں اور اب جب علاقے میں صرف کم سے کم مقدار میں امداد داخل ہو رہی ہے، عالمی ادارہ صحت نے وہاں قحط اور بیماریوں کے خطرے سے خبردار کیا ہے ۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے امور کے سربراہ والکر ترک نے جمعرا ت کو کہا کہ، “انہیں دو اسرائیلی وزرا کی جانب سے الگ الگ دیے جانے والے ان بیانات پر شدید تشویش ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ کو چھوڑ دینا چاہیے، اور یہ کہ اس سے جبری بے دخلی کے خدشات پیدا ہورہے ہیں۔”

اس بارے میں کوئی علامت موجود نہیں ہے کہ اسرائیل کی حکومت ایسی کسی پالیسی کی حمایت کرتی ہے۔

خان یونس کے ایک اسپتال میں کمبلوں میں سکڑے ہوئے غمزدہ رہائشیوں نےجو مرنے والوں کا سوگ منا رہے تھے ، بتایا کہ غزہ کے جنوب میں خیموں میں رہنے والے بے گھر فلسطینی ایک حملے میں ہلاک ہو گئے تھے ۔

بہا ابو حتاب نے بتایا کہ ان کا بھتیجا ہلاک ہو گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ “ وہ خودکو سرد موسم سے بچانےکے لیے ایک خیمے میں رہ رہے تھے لیکن اسرائیلی فضائی حملوں نے انہیں سوتے ہوئے نشانہ بنایا۔ اس نے پوچھا، کیوں ؟ کیوں کہ وہ اسرائیل اور امریکہ کے لیے خطرہ تھے ؟”

اب جب اسرائیل ۔حماس جنگ شدید ہو چکی ہے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کی ہے جس سے عالمی جہاز رانی کی ایک گزر گاہ میں ایسے حملوں نے خلل ڈالا ہے جن کے بارے میں باغیوں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی ہے ۔

امریکہ اور اس کے 11 اتحادیوں نے حوثیوں کو مشترکہ طور پر انتباہ کیا ہے کہ اگر انہوں نے فوری طور پر حملے نہ روکے تو انہیں نتائج بھگتنے ہوں گے ۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اس بیان کو، جس میں برطانیہ ، جرمنی جاپان شامل تھے ایک حتمی انتباہ قرار دیا ۔

ایک سینیر امریکی عہدے دار نے ا سے ایک واضح پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کسی دوسرے انتباہ کی توقع نہیں ہے۔

اتوار کو امریکی فوج نے کہا کہ اس نے ڈنمارک کی ایک بڑی شپنگ کمپنی مائرسک کی ملکیت والے ایک کنٹینر شپ پر کیے گئے حملوں کے بعد حوثیوں کی تین کشتیاں غرق کر دی ہیں۔

باغیوں نے کہا ہے کہ ان کے دس جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔