آنکھ مچولی ۔ حبیب اللہ بلوچ

163

آنکھ مچولی

تحریر: حبیب اللہ بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ

آنکھ مچولی ایک روایتی کھیل ہے جس سے بچے اکثر محضوض ہوتے ہیں اور اس کھیل کو ہمیشہ تاریکی میں کھیلتے ہیں۔ میرا بچہ”غلام مصطفی شاہوانی” بھی اس کھیل میں بڑی مہارت رکھتا تھا وہ جب بھی اپنے دوستوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتا تو کافی دیرتک نظر نہیں آتادوستوں کی آنکھوں سے اوجھل ہوتا۔ اس کے دوست اسے ڈھونڈ نے میں بہت وقت لگاتے تھے مجھے خوف سا رہتا تھا میں اپنے بچے کو اس کھیل سے منع بھی کرتی تھی کیونکہ میں ماں تھی مجھے برداشت نہیں ہوتا تھا وقت گزرتا گیا میرا بیٹا بڑا ہوا اس کی نوکری بھی ہو گی ۔ میں نےاپنے بیٹے کی شادی بھی کروالی۔

پھرمیرا بیٹا شہر سے دور نو کری کرتا تھا اور اکثر رات کو کافی دیر سے گھر پہنچتا تھا جب بھی گھر میں داخل ہوتا، تو مجھے جاگتا ہوا دیکھ کر میرے قدموں کو چوم کر بولتا تھا اماں آپ ابھی تک جاگ رہی ہو؟ میں کہتی تھی بیٹا مجھے آپ کے آنے کا انتظار رہتا ہے آپ جب تک نہیں پہنچے مجھے نیند نہیں آتی، بیٹا میرے قدموں میں بیٹھ کر مجھے سلاتا تھا پھر اپنے بچوں کے روم میں جاتا تھا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ ملک میں ایمرجنسی نافذ ہوگئی اور اقتدار فوج نے سنبھالی اور جس ادارے میں میرے بیٹے کی ملازمت تھی وہ ادارہ بھی سیکورٹی فورس کے کنٹرول میں چلا گیا ۔ میرا بیٹا اپنی نوکری کو بڑی ایمانداری سے کرتا تھا ایک دن ڈیوٹی پرمقررہ وقت سے تھوڑی دیرسے پہنچا تو ایک فو جی آفیسر نے اسے بے عزت کیا۔

جب گھر آیا تو مجھے بتایا کہ ماں آج دفتر میں مجھے سکورٹی فورس کے صاحب نے بہت بے عزت کیا ہے ہمارا اس کے ساتھ جھگڑا ہوا ہےتو یہ سُن کر میں بہت گھبرا گئی۔ بیٹے کو کہا کل اس سے معافی مانگو ان سے الجھنا ٹھیک نہیں بیٹا۔

یہ سُن کراُس کا لہجہ اور کرخت ہوگیا ارے اماں اس نے مجھے سب کے سامنے بے عزت کیا اور میں معافی مانگوں یہ کیا بول رہی ہو۔ سمجھنے سمجھانے میں رات گزر گئی۔ صبح بیٹا نوکری پر گیا مجھے پورا دن انتظار کرنا پڑا اور دن ڈھل گیا۔ بیٹا گھر نہیں پہنچا رات کے ساتھ میری بے چینی بھی بڑھتی گئی۔ مگر میرے بیٹے کی آنے کا وقت گزر تا گیا۔ دوسرے بیٹے کو کہا بیٹا آج آپ کا بھائی ابھی تک نہیں آیا جا کہ پتا کرو کدھر ہے ؟ اُنکا چھوٹا بھائی گیا یہاں وہاں سے معلومات کی مایوس ہوکر واپس گھرآیا کہا اماں بھائی کا کوئی اتا پتا نہیں۔

رات گزری دن گزرے ہفتہ گزرگیا مہینے گزرے سال گزرے میرا وہ بیٹاابھی تک گھر نہیں لوٹا اورآج اُسے گھر سے گئے چوبیس(24) سال گزر گئے لیکن غلام مصطفی شاہوانی کا کوئی اتا پتہ نہیں۔ نہ جانے وہاں کہاں گم ہو گیا مجھے جو اس کے بچپن کا خوف تھا اب تک مجھے زندہ در گور کر گیا کہ بیٹا آپ آنکھ مچولی کھیلتے تو تھے مگر اپنی ماں کو ایک طویل انتظار میں ڈال کر گئے آج آپ کو 24 سال گزرگئے، اب تو آپ کے بچے بھی جوان ہوگئے ہیں آپ کو ڈھونڈ تے ہیں۔

*تمہارا جو چھوٹا بھائی تمہیں ڈھونڈنے نکلا تھا وہ بھی ایک دن غائب ہوگیااور چھ مہینے کے بعد اُسکی مسخ شُدہ لاش ایک ویرانے سے ملی۔
بیٹا! اتنی بڑی سزا مجھے ملی ہے میں ماں ہوں میرا درد وہ مائیں سمجھ سکیں گی جنہوں نے اپنے جوان بیٹے گنوادئیں ہیں اور آج اسلام آباد میں اپنے بچوں کے انتظار میں روڈ پر احتجاج کر رہی ہیں کاش میں بھی آپ کے لیے ان کے ساتھ ہوتی شاہد ان کی توسط سے مجھے آپ مل جاتے مجھے آپ کے آنے کاتادم مرگ انتظاررھے گی خدا کرے دوسرے بچوں کے ساتھ آپ بھی کہیں سے آجائیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔