غزہ کی جنگ ختم کرانے کی مصری تجویز، اسرائیل اور حماس کا سرد ردعمل

120

مصر نے اسرائیل حماس جنگ ختم کرنے کے لیے ایک منصوبہ ایک ایسے وقت پیش کیا ہے جب جنگ میں شدت آ گئی ہے اور اے پی کے مطابق غزہ میں ایک بچے سمیت کم از کم 68 افراد مارے گئے ہیں۔ حالیہ اختتام ہفتہ ان دنوں میں شامل ہوگیا ہے جن میں مہلک ترین بمباری کی گئی۔

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ وسطی اور جنوبی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں شدت آئی ہے۔ مغازی پناہ گزیں کیمپ میں امدادی کارکن اس فضائی حملے کے کئی گھنٹے بعد تک ملبے سے لاشیں نکال رہتے رہے، جس کے بارے میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے کہا ہے کہ اسپتال کے ریکارڈ کے مطابق کم از کم106 لوگ مارے گئے۔

اسرائیل اور حماس نے پیر کے روز اپنی تلخ جنگ کے خاتمے کے لیے مصری تجویز پر سردمہری کا رد عمل ظاہر کیا تاہم انہوں نے اس منصوبے کو یکسر مسترد نہیں کیا جس سے غزہ کی پٹی میں تباہ کن اسرائیلی حملے روکنے کے لیے سفارت کاری کے ایک نئے دور کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

تجویز ہے کیا؟

ایک مصری اور ایک یورپی سفارت کار کے مطابق، مصر کے اسرائیل حماس جنگ ختم کرنے کے منصوبے کا آغاز جنگ بندی سے ہوگا۔ جس کے بعد یرغمالوں کی مرحلہ وار رہائی عمل میں آئے گی اور ماہرین پر مشتمل ایک فلسطینی حکومت قائم کی جائے گی جو غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کا انتظام سنبھالے گی۔

مصرکی تجویز ، قطر کے ساتھ مل کر تیار کی گئی ہے اور اسرائیل، حماس، امریکہ اور یورپی حکومتوں کو پیش کر دی گئی ہے۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ ابھی اپنی ابتدائی حالت میں ہے۔

اس تجویز میں سات اکتوبر کے اسرائیل پر حماس حملے کے بعد اس عسکری گروپ کو مکمل طور پر ختم کردینے کے اسرائیل کے عزم کا کوئی حوالہ نہیں ہے، جس کے سبب یہ جنگ شروع ہوئی ہے۔

جب کہ اس منصوبے میں بظاہر جنگ کے بعد ایک توسیع شدہ مدت تک غزہ پر اپنا فوجی کنٹرول برقرار رکھنے کے اسرائیل کے اصرار کا بھی حوالہ نہیں ہے۔ اور اس تجویز میں یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا حماس اقتدار سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہوگی۔

مصری عہدیدار کے مطابق تجویز کی تفصیلات یہ ہیں کہ دو ہفتے کی ابتدائی جنگ بندی ہو گی جس دوران فلسطینی جنگجو 40 سے 50 یرغمالوں کو رہا کریں گے جن میں خواتین، بیمار اور ضعیف لوگ شامل ہوں گے۔ جب کہ اسرائیل 120 سے 150 کے درمیان فلسطینیوں کو اپنی جیلوں سے رہا کرے گا۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرنے والے اس عہدیدار نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی جنگ بندی میں توسیع کے مذاکرات اور یرغمالوں کو چھوڑنے اور ان لاشوں کو حوالے کرنے کے مذاکرات جاری رہیں گے جو فلسطینی جنگجوؤں کے قبضے میں ہیں۔

عہدیدار کے مطابق مصر اور قطر حماس سمیت فلسطینی دھڑوں کے ساتھ انہیں ماہرین کی ایک حکومت بنانے پر رضامند کرنے کے لیے کام کرتے رہیں گے۔

اسرائیل کا موقف

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جنگ نہیں رکے گی۔ اپنی لکڈ پارٹی کے ارکان سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ہم جنگ کو وسعت دیں گے۔ یہ ایک طویل جنگ ہوگی، اور یہ ابھی ختم ہونے کے قریب نہیں ہے۔”

انہوں نے یہی پیغام اسرائیلی پارلیمان میں اپنی تقریرکے دوران بھی دیا جہاں ایک سو سے زیادہ ان اسرائیلی یرغمالوں کے اہل خانہ بھی ایسے کتبے لیے ہوئے موجود تھے جن میں کہا گیا تھا کہ انہیں فوراً چھڑانے کے لیے اسرائیل کسی سمجھوتے تک پہنچے۔ یہ یرغمال ابھی تک حماس کے قبضے میں ہیں۔

ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق نیتن یاہو اور ان کی جنگی کابینہ کے دوسرے ارکان پیر کو دیر گئے ملاقات کر رہے ہیں لیکن اس نے یہ نہیں کہا کہ کیا وہ مصری تجویز پر تبادلہ خیال کریں گے۔ عہدیدار نے یہ بات اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کی۔

ایک مغربی سفارت کار نے اپنا نام ظاہر نہ کر نے کی شرط پر بتایا کہ وہ مصر کی پیش کردہ تجویز سے آگاہ ہیں۔ لیکن سفارت کار کو اس بارے میں شبہ ہے کہ آیا نیتن یاہو اور ان کی سخت گیر حکومت پوری تجویز کو قبول کرے گی۔

سفارت کار نے مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔