جنگ بندی ختم: اسرائیل کی غزہ پر بمباری، 32 افراد ہلاک

96

اسرائیل نے فلسطینی عسکری تنظیم حماس پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے غزہ میں ایک مرتبہ پھر حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔

اسرائیل کی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے جمعے کو کہا ہے کہ حماس کی جانب سے راکٹ حملے کے بعد غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان لڑائی کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔

فلسطینی عسکری تنظیم حماس نے اسرائیل پر راکٹ داغنے یا اس سے متعلق فوری طور پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ البتہ حماس سے وابستہ میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کے شمال میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ جنگ بندی کا وقت ختم ہونے سے چند منٹ قبل بھی غزہ کے قریب اسرائیلی علاقوں میں خطرے کے سائرن کی آوازیں دوبارہ سنائی دی گئی ہیں۔ اسرائیل کے میزائل دفاعی سسٹم فعال ہونے کے بعد شمالی غزہ کے ساتھ اسرائیل کے سرحدی شہر سدیروت میں سفید دھوئیں کی ٹریلز دیکھی گئیں۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق اسرائیل کے لڑاکا طیاروں نے جمعے کو ایک ہفتے تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے اختتام کے کچھ دیر بعد ہی غزہ کی پٹی پر بمباری کی۔ بمباری کے بعد محصور غزہ سے دھویں کے سیاہ بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔

اسرائیل نے جنوبی غزہ کے حصوں میں پمفلٹ بھی پھینکے ہیں۔ اسرائیل نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو چھوڑ دیں کیوں کہ وہ اپنے آپریشن کو وسیع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

جنوبی غزہ میں گرائے گئے پمفلٹس میں اسرائیل نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ خان یونس کے مشرق میں گھروں کو چھوڑ دیں۔ پمفلٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ خان یونس اب ایک “خطرناک جنگ کا علاقہ” ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز میں شمالی غزہ سے لاکھوں افراد نے نقل مکانی کی تھی اور بہت سے افراد نے جنوبی حصے میں خان یونس اور دیگر مقامات پر پناہ لی تھی۔

دوبارہ لڑائی نے غزہ میں حماس کے قبضے میں موجود لگ بھگ 140 یرغمالوں کی زندگی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل جنگ کے اہداف کے حصول، یرغمالوں کی رہائی، حماس کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا خاتمہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک روز قبل امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹی بلنکن نے اسرائیل کے حکام سے ملاقات کی تھی اور ان پر زور دیا تھا کہ وہ فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کریں۔

جمعے کو غزہ میں تازہ کارروائی کے چند گھنٹوں بعد ہی حماس کے زیرِ کنٹرول غزہ کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ 32 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

ایک فضائی حملے میں خان یونس میں ایک بڑی عمارت کو تباہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قطر کی فنڈنگ سے چلنے والے حماد ٹاؤن کے قریب ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مزید یہ کہ شمالی حصے میں غزہ سٹی کے قریب ایک گھر اور غزہ کے مرکز کے قریب مغازی پناہ گزین کیمپ پر حملہ کیا گیا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس کے جنگجوؤں کو نشانہ بنا رہا ہے اور شہری ہلاکتوں کا ذمہ دار حماس کو قرار دیتا ہے۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس کے جنگجو رہائشی علاقوں میں آپریٹ کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو نے کہا کہ حماس نے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی جس کی وجہ سے جنگ دوبارہ شروع ہوئی۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ حماس نے آج تمام خواتین یرغمالوں کو رہا کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اور اسرائیل کے شہریوں پر راکٹ داغے۔

یاد رہے کہ حماس نے سات اکتوبر کر اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1200 افراد ہلاک اور 240 یرغمال بنائے گئے تھے۔ اسرائیل کی جوابی کارروائی میں حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 15 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بچوں اور خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق فریقین کے درمیان جنگ بندی جمعے کو مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے ختم ہو ئی اور کسی بھی فریق نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان نہیں کیا۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان ڈیڑھ ماہ کی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ 24 نومبر کو عارضی جنگ بندی ہوئی تھی جس میں دو مرتبہ توسیع کی گئی۔

قطر، امریکہ اور مصر کی ثالثی میں ہونے والی عارضی جنگ بندی کے دوران حماس نے مجموعی طور پر 105 یرغمالوں کو رہا کیا جس کے بدلے اسرائیل نے اپنی جیلوں میں قید 240 فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا تھا۔ معاہدے کے تحت جنگ بندی کے دوران غزہ میں انسانی بنیاد پر امدادی سامان اور فیول بھی پہنچایا گیا۔