جب تک ہم ایک نہیں ہونگے اسی طرح جبری لاپتہ ہونگے – کوئٹہ سیمینار

304

جمعرات کے روز کوئٹہ میں سریاب کے مقام پر بلوچ نسل کشی کے خلاف جاری لانگ مارچ کے مقام پر ایک سیمنار کا انعقاد کیا گیا جس میں وکلا، سیاستدان، قلمکاروں سمیت لاپتہ افراد کے لواحقین اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں روز بروز بڑھ رہے ہیں اب ان زیر حراست لوگوں کو جعلی مقابلوں میں مار کر پھینک دیا جارہا ہے۔

سیمینار سے حاجی لشکری رئیسانی، وکلا رہنما علی احمد کرد ، ڈاکٹر منظور بلوچ، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، ڈاکٹر شلی بلوچ، لاپتہ بلوچ طالب علم رہنماء ذاکر مجید کی والدہ اور دیگر لواحقین نے اپنے خیالات پیش کیئے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ جب تک ہم ایک نہیں ہوں گے اسی طرح لاپتہ ہوتے رہیںگے، ہمیں اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگا، یہ ایک پرامن جدجہد ہے اس میں ہمیں اپنے غصے، جذبہ اور طاقت کو حوصلے میں بدلنا ہوگا ۔

علی احمد کرد نے کہا کہ مسنگ پرسنز کے ساتھ ساتھ ایسا نہ ہو بلوچستان ہی مسنگ ہوجائے، بالاچ کے معاملے میں لواحقین باہر نکلے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انہیں یقین ہے کہ عدالتوں میں انصاف نہیں ملے گا۔

نوابزادہ اسلم رئیسانی نے کہاکہ اس ریاست نے ایک ایسا نظام بنایا ہے کہ ہر کوئی اس کی غلامی کریں، اگر یہ ریاست اپنی عزت نہیں کرتی تو دوسروں کی عزت کیسے کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ آئے روز لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ جوڈیشل کلنگ سے لگتا ہے کہ ریاست بلوچستان میں امن و خوشحالی نہیں چاہتی اس لیے بلوچستان میں ریاستی اداروں کا احترام ختم ہوچکا ہے ۔

نوابزادہ حاجی لشکر ی رئیسانی نے کہا کہ آج ہر طرف بلوچستان میں لوگ سراپا احتجاج ہے کہی لوگ بیروزگاری کے خاتمہ کیلئے احتجاج پر ہیں تو کہی اپنے پیاروں کے لاپتہ ہونے کے بعد ان کی جوڈیشنل کلنگ کے خلاف سراپا احتجاج ہے ریاست پاکستان بلوچستان میں امن بھائی چارے کے بجائے تقسیم درتقسیم کے پالیسی پر عمل پیرہ ہے۔ اسلام کے حکمرانوں کو بلوچستان کی عوام کی نہیں بلکہ ان کے وسائل کی ضرورت ہے ریاست خود سیاسی پارٹی بناتی ہیں بعد میں اس کے ارکان کو مختلف پارٹیوں میں تقسیم کرتی ہیں تاکہ دوبارہ انہیں حقیقی سیاسی کارکنوں کا راستہ روک کرکے انہیں دوبارہ اقتدار میں لایا جاسکے۔

ذاکر مجید کی والدہ نے کہاکہ میں نے پندرہ سالوں سے ہر عدالت، ادارہ اور کمیشن کا دروازہ کھٹکایا کہیں انصاف نہیں ملا۔

مقررین نے کہاکہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی بدیرین خلاف ورزیاں جاری ہیں لاپتہ افراد کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے اور بلوچستان کے سیاسی مسائل کو سیاسی طور پر دیکھا جائے۔

انہوں نے تربت سے کوئٹہ لانگ مارچ کے شرکا کے حوصلوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ انکی ہمت اور جذبہ کو سلام ہے۔ 22 دنوں سے یہ لوگ انصاف کے لئے سراپا احتجاج ہیں لیکن ریاست سنجیدہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ مکران، جھالاواں ، ساراوان سے یہاں لوگ درد لے کر آئے ہیں، ایسے لوگ ہیں جنہوں اپنے شہر تک نہیں دیکھے ہیں وہ اپنے پیاروں کے لئے شہر شہر گھوم رہے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ اس لانگ مارچ میں ایک چرواہا شامل ہے جو اپنے بیٹے کی جبری گمشدگی کے حلاف احتجاج میں ادھار لے کر آیا ہے۔ ایسے بہت سے بزرگ ہیں جنکے پاس کرایہ تک نہیں کہ وہ یہاں آکر اپنا کیس رجسٹرڈ کریں ۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں واقعات پر نہیں، ریاستی جبر کے خلاف مسلسل جدوجہد کرنا ہوگا۔ بالاچ اور تین زیر حراست بلوچوں کے قتل کے بعد شروع ہونے والا یہ تحریک دیگر لوگوں کے لئے ایک امید ہے اور ہمیں یہ برقرار رکھنا چاہیے ۔