تربت جعلی مقابلہ: جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کراچی میں احتجاج

238

بلوچستان کے علاقے تربت میں زیرحراست بالاچ بلوچ کی ماورائے عدالت قتل کیخلاف جمعرات کے روز کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے منعقدہ مظاہرہ میں تمام انسانی حقوق کی تنظمیں، سول سوسائٹی، سیاسی و سماجی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کرتے ہوئے پاکستانی فورسز کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے بلوچستان میں سی ٹی ڈی جعلی مقابلوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا-

اس موقع پر انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین اسد بٹ، قاضی خضر، سعید، ویمن ایکشن فورم کی عظمیٰ نورانی، مہناز رحمان ٹریڈ یونین رہنما ناصر منصور ، ظہرہ خان،لیاری عوامی محاذ کے خالق زدران ، کامریڈ واحد بلوچ و دیگر موجود تھے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ 23 نومبر 2023 کو بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے زیرحراست بالاچ مولابخش سمیت دیگر تین دیگر افراد کو جعلی مقابلے کے نام پر قتل کردیا بالاچ کے قتل میں ملوث سرکاری اہلکاروں کی فوری طور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں-

مقررین نے کہا کہ جعلی مقابلے سے دو دن قبل بالاچ کو سی ٹی ڈی نے تربت کے مقامی عدالت میں پیش کرکے ان کا دس روزہ جسمانی ریمانڈ لیا تھا بعد میں انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کے بجائے بالاچ کو تربت میں چار افراد کے ساتھ جعلی مقابلے میں قتل کردیا گیا۔

انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین اسد بٹ نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آئی، جو بات زیادہ تشویش کا باعث ہے وہ یہ ہے کہ بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ اسد بٹ جبری گمشدگیوں کو جرم قرار دیتے
ہوئے کہا کہ مرتکب افسران اور اہلکاروں کو گرفتار کیا جائے۔

واضح رہے تربت واقعہ کے خلاف بلوچستان سمیت پاکستان دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جبکہ واقعہ کے خلاف تربت سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کیا جارہا ہے جو ابتک پنجگور پہنچ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرارہے ہیں-

مظاہرین کے مطالبات میں لاپتہ افراد کی فوری بازیابی اور کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ کا خاتمہ شامل ہے۔