بولان: زیر حراست دشمن آلہ کار کو اعتراف جرم کے بعد ہلاک کردیا گیا– بی ایل اے

400

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے زیر حراست قابض پاکستانی فوج کے ایک آلہ کار آسمانی مری عرف اُوتھے کو اعتراف جرم کے بعد ہلاک کردیا۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے گذشتہ دنوں مچھ کے نواحی علاقے دڑنجین میں ایک کارروائی کے دوران پاکستانی فوج کے آلہ کار آسمانی عرف اُوتھے ولد تنگو مری کو حراست میں لے لیا۔ آسمانی مری نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ 2018 میں اس نے دوران مری عرف بزرگ کے ہمراہ سرینڈر کرکے اس کی سربراہی میں دشمن فوج کیلئے مخبری کا کام کیا۔

ترجمان نے کہا کہ سرینڈر کردہ اور سرکاری ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ دوران مری عرف بزرگ کو انکے بھائی و شریک کار عبدالعزیز مری کے ہمراہ نومبر 2019 میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے کوئٹہ میں ایک کارروائی میں ہلاک کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آسمانی مری نے انکشاف کیا کہ سرینڈر کرنے کے بعد اسے دوران مری و دیگر کے ہمراہ چار مہینے تک کوئٹہ فوجی کینٹ میں رکھا گیا جہاں بعدازاں انہیں سبی لے جایا گیا جہاں ان کی ملاقات پاکستان فوج کے میجر علی احمد سے کروائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس نے اعتراف کیا کہ ہم نے بولان کے علاقوں گڑانگ اور بُزگر کے علاقوں میں آپریشن میں دشمن فوج کی معاونت کی اور فوجی ساز و سامان کی نشاندہی کی۔ آلہ کار نے اعتراف کیا کہ بعدازاں شاد علی نامی شخص کے گھر پر آپریشن میں دوران مری کے ہمراہ دشمن کی معاونت کی، جہاں دشمن فوج نے شاد علی اور ان کے بیٹوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ آلہ کار آسمانی نے مزید بتایا کہ کچھ عرصے بعد پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے مجھے کوئٹہ بلایا جہاں آلہ کار منشی پہلے سے موجود تھا۔ بعدازاں ہم نے بذریعہ فون ملا مادو سے بات کی اور پھر حاجی شاہ مراد کے گھر پر دشمن فوج کے ہمراہ چھاپہ مار کر ملا مادو مری کو گرفتار کروایا۔

انہوں نے کہا کہ خیال رہے جبری لاپتہ ملا مادو مری کو بزدل دشمن کی فورس سی ٹی ڈی نے جون 2021 میں مارواڑ میں دیگر تین افراد کے ہمراہ مقابلے کا نام دیگر قتل کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آلہ کار آسمانی مری نے مزید اعتراف کیا کہ مچھ و بولان کے نواحی علاقوں گونی پرا، سارو، ترمڑ، بابا گر، مارگٹ، جعفری میں ہونے والے دشمن فوج کی جارحیت میں ان کی سہولت کاری کی۔

ترجمان نے کہا کہ اس نے اعتراف کیا کہ پاکستانی فوج کے میجر موسیٰ کی سربراہی میں مخبری کرتے ہوئے مچھ کے علاقے سے تین بھائیوں سمیت آٹھ افراد کو دشمن فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ کروایا جبکہ کوئلہ لیز پر تعینات کرکے مخبری کا کام لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آسمانی مری کو قومی غداری کے مرتکب ہونے پر بلوچ قومی عدالت نے سزائے موت سنائی جس پر بی ایل اے کے سرمچاروں نے عمل کرتے ہوئے اس کو ہلاک کردیا۔

جیئند بلوچ نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی قومی غداری کے مرتکب ہونے افراد کو ہرگز معاف نہیں کرے گی اور انہیں آسمانی مزارانی کی طرح ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔