بلوچ نسل کشی کے خلاف جاری لانگ مارچ کے سامنے روڑے اٹکانا قابل مذمت ہے۔ این ڈی پی

105

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پچھلے مہینے 23 نومبر کو بلاچ بلوچ سمیت 3 بلوچ نوجوانوں کو سی ٹی ڈی نامی ادارے نے جعلی مقابلے میں قتل کے خلاف بالاچ بلوچ کے خاندان کی جانب سے احتجاجی دھرنا دیا گیا، بعد میں یہ احتجاجی دھرنا بلوچ نسل کشی اور جبری گمشدگی کے خلاف ایک تحریک کی شکل اختیار کر گئی جو کہ ابھی تک جاری ہے۔یہ تحریک بلوچستان کے کونے کونے میں جا کر ریاست کی جانب سے بلوچ کش پالیسیوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے اور جگہ جگہ سے بلوچ عوام اس سے جڑ رہے ہیں، جو کہ بلوچ عوام کی اجتماعی شعور اور دانش کی واضح مثال ہے کہ عام بلوچ عوام آج بھی اجتماعی طور پر قومی مزاحمتی شعور اور دانش سے لیس
ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اس لانگ مارچ کے تمام مطالبات ریاستی آئین و قانون کے مطابق ہیں، اور پُرامن طور پر جدوجہد کرتے آ رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ریاستی انتظامیہ کی جانب سے مختلف علاقوں میں اس لانگ مارچ کے سامنے روڑے اٹکائے جا رہے ہیں، آئین و قانون کے نام پر مخلتف ہتھکنڈوں کے ذریعے ایف آئی آر کیا جا رہا ہے، دوسری جانب نگران وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کی جانب سے تسلسل کے ساتھ اس قسم کے بیانات دئیے جا رہے ہیں،جو کہ ان کی فاشسٹ اور متشدد سوچ کو واضح کرتے ہیں، جو کسی طور پر قطعاً قبول نہیں کیا جا سکتا۔

ترجمان نے بیان کے آخر میں کہا کہ ریاست اور ریاستی اداروں کو جان لینا چاہیے کہ حالیہ لانگ مارچ میں ڈیرہ غازی خان تک بلوچ سرزمین کے باسی پورے جو ش ولولے کے ساتھ اس نسل کشی کے خلاف نکل کر لانگ مارچ کے ساتھ جڑ رہے ہیں، لہذا عوام کی اجتماعی مزاحمت، اجتماعی دانش و شعور کو چند نام نہاد ایف آئی آر اور مخلتف ہتھکنڈوں سے دبایا نہیں جا سکتا ہے، اور نہ ہی بلوچ واسیوں کو اپنی مزاحمت سے دست بردار کیا جا سکتا ہے۔