بلوچ قومی تحریک اور وسیع پیمانے پر عوامی موبلائزیشن لانگ مارچ کے تناظر میں – زویا بلوچ

208

بلوچ قومی تحریک اور وسیع پیمانے پر عوامی موبلائزیشن لانگ مارچ کے تناظر میں

تحریر: زویا بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

اس وقت پورا پاکستان بشمول عالمی دنیا، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر لب کشائی کر رہے ہیں، وسیع پیمانے پر عوامی احتجاجات دیکھنے کو مل رہے ہیں، وہیں ریاستی پراپیگنڈہ ٹولز بھی حرکت میں آچکے ہیں، جن میں اس وقت سر فہرست صحافیوں کے بھیس میں ریاستی ایجنٹس، ڈیتھ اسکواڈ سرغنہ، نگران حکومت میں ریاستی کٹھ پتلیاں، ریاستی میڈیا( جو بیانیے کو توڑ مروڑ کر مسخ کر کے پیش کر رہا) اور ٹرول برگیڈ ہیں۔

سیاسی شعور سے عاری یا نیم سیاسی شعور رکھنے والے بلوچ نوجوان اس وقت سب سے زیادہ ان پراپیگنڈہ ٹولز کا شکار نظر آرہا ہے، جو ایک جانب اس نیریٹو کا شکار بنتا نظر آرہا ہے کہ بلوچستان مسئلے کی وجہ سردار اور پارلیمانی کٹھ پتلیاں ہیں، وہیں دوسری جانب وہ اس بیانیے کا شکار بھی نظر آتا ہے کہ بلوچ قوم کی بقاء و شناخت کا حل صرف پر امن جدوجہد میں ہے کیونکہ اتنے عرصے سے مسلح محاز جاری ہے لیکن وہ اتنا مقبول نہیں ہوا تو انکو چاہئے کہ بلوچ قومی تحریک سمیت علم سیاسیات، فلسفہ، زمینی حقائق سمجھ کر انکے تناظر میں قومی مزاحمت کی باریک بینیوں کو سمجھنے کی کوشش کریں، سطحی تجزیات مزید باعث کنفیوژن ہونگے، کچھ اس میں کنفیوز ہیں کہ یہ عوامی تحریک یکدم شروع ہوئی، ماہرنگ یکدم اس عوامی تحریک کی لیڈر بن کر ابھریں، کچھ اس سیاسی کنفیوژن میں ہیں کہ عوامی تحریک میں لیڈرشپ کا خلاء موجود ہے، دوسری جانب عام پنجابی، سرائیکی اور دیگر قومیتوں کے سیاسی سمجھ بوجھ نہ رکھنے والے طبقات ریاستی نظام تعلیم کے زیر اثر رہ کر اس وقت سب سے زیادہ ٹرول برگیڈ کا شکار بن رہے ہیں، جنکو لگتا ہے کہ مسنگ پرسنز ایشو، بلوچستان میں ریاستی بربریت محض اک جھوٹ اور پروپیگنڈہ ہے اور اس سب میں انڈیا و دیگر بیرونی قوتیں ملوث ہیں، بلوچ دہشت گرد ہیں وغیرہ وغیرہ۔

ان سب کو بھی اب حقائق سے آنکھ چرانے کی بجائے حقیقی بنیادوں پر حقائق کا مطالعہ کرکے شعوری طور پر تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم کوشش کریں گے کہ اس سلسلے میں ایک ایک کرکے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے، سب سے پہلے تو ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت عوامی سطح پر بلوچستان بھر میں وسیع پیمانے پر موبلائزیشن کیا یکدم شروع ہوئی؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے ہمیں بلوچ قومی جدوجہد کی تاریخ سمیت دنیا میں جاری حالیہ یا ماضی کی قومی تحریکوں کی تاریخ پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

کوئی بھی قومی تحریک بنیادی طور پر تین محازوں پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں مسلح محاز، عوامی محاز( ماس پارٹی جو عوام میں رہ کر انہیں موبلائز کرتی ہے) اور تیسرا محاز طلبہ سیاست ہے، ہر ایک خطے کے زمینی حقائق اور وقت و حالات کی مناسبت سے ان تین محاذوں کی اہمیت، اتار چڑھاؤ اور ردو بدل ممکن ہے، بلوچ قومی تحریک کا موجودہ فیز جو سنہ 2000ء سے اتار چڑھاؤ کے باوجود تسلسل سے جاری ہے جہاں شروعات میں طلبہ سیاست بی ایس او آزاد کی شکل میں اور عوامی محاز بی این ایم کی شکل میں ایک دہائی سے زائد عرصے تک سرگرم رہے لیکن اس دوران مسلح محاز کسی حد تک کمزور رہا۔ نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد عوامی رد عمل کو مدنظر رکھ کر ریاست نے اپنی پالیسیاں تبدیل کرکے مارو پھینکو پالیسی کے تحت طلبہ سیاست سمیت عوامی محاز کو کافی حد تک کچل دینے میں کچھ عرصہ تک کامیاب رہی، سیاسی کارکنان کی جبری گمشدگیوں کا ایک نہ تھمنے والا طویل سلسلہ شروع ہوا، مزاحمت پھر بھی جاری رہی دوسرے فیز میں ریاست نے مارو پھینکو پالیسی ( Kill & Dump Policy) بھی اختیار کی ڈیتھ اسکواڈز کو سرگرم کیا گیا، جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ عوام میں زہنی و نفسیاتی خوف پھیلا کر قومی تحریک کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔

بی این ایم اور بی ایس او آزاد پر پابندی لگا کر انکو کالعدم قرار دیا گیا، پارلیمانی پالیٹیکل ممکنگ ( Political mimicking) کی صورت بلوچ عوام کو سیاست اور سیاسی شعور سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، سیاسی اجتماعات پر پابندیاں عائد کر دی گئیں، مزہبی شدت پسندی، فرقہ واریت کو ہوا دی گئی، زکری نمازی فسادات کو ہوا دینے کی کوششیں کی گئی، سلیکٹڈ نصاب، کنٹرولڈ میڈیا، بیوروکریسی، سافٹ پاور اور ریاستی ایجنڈے پر کام کرنے والی این جی اوز کی، بلوچستان میں میڈیا بلیک آوٹ، انٹرنیٹ کی عدم سہولیات، تعلیمی فقدان سمیت ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا گیا اور ایک نسل کا خاتمہ کرکے نئی نسل کو غیر سیاسی کرنے اور سیاسی شعور سے عاری رکھنے کی ہر ممکن کوشش جاری رہی لیکن سب بے سود رہا۔

2018 کے بعد مسلح محاز جدید ٹیکنالوجی، موجودہ دور کے تقاضوں اور جدید شہری گوریلا وارفیئر سمیت جدید اسلحے سے لیس ہوکر ریاستی تمام تر بلوچ کش پالیسیوں کو خاک میں ملا دیا، مجید برگیڈ، اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ، فتح اسکواڈ، نائٹ ویژنز، تھرمل گنز، مسلح کاروائیوں کی ڈرون فوٹیج، ایلیٹ یونٹس کی تشکیل، مسلح تحریک میں بلوچ خواتین کا کردار بالخصوص فدائین کی شکل میں، براس اتحاد، پاکستانی حساس تنصیبات سمیت چائینیز پر کاری وار کرکے پاکستان سمیت پوری دنیا کو حیرت میں مبتلا کردیا، ریاست نے بالاچ مری، اور بعد میں جنرل اسلم بلوچ کو شہید کرکے اس خام خیالی میں مبتلا رہی کہ تحریک کمزور یا ختم ہوجائے گی لیکن بلوچ تحریک کا موجودھ فیز پچھلے فیزوں سے اس لئے بھی منفرد ہے کہ اب تحریک اپر کلاس اور شخصی بندشوں سے آزاد ہوکر ادارجاتی طرز اور مڈل کلاس طبقے کے ہاتھوں میں آچکی ہے، ادارجاتی طرز جدوجہد میں ادارے فرد کی بندشوں سے آزاد صرف اور صرف نظریہ کے تابع ہوتے ہیں جہاں مقدس ادارہ اور نظریہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جنرل اسلم بلوچ کی شہادت کے بعد مسلح قیادت بشیر زیب اور دوسری جانب ڈاکٹر اللہ نذر کے کاندھوں پر کمزور ہونے کی بجائے مزید شدت سے جاری ہے سن 2000 سے مسلح جدوجہد 2018 کے بعد سے جدت و شدت کے ساتھ جاری ہے، ایسے وقت میں بی ایس او آزاد پر کریک ڈاؤن کے باوجود بلوچ طلبہ سیاست بھی تسلسل سے کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے اور اس وقت طلبہ سیاست بھی موجودہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر نئی پالیسیاں تشکیل دیکر جدت و شدت سے جاری ہے۔

اس دوران میں بلوچ عوام بالخصوص سیاسی شعور سے عاری یا نیم سیاسی شعور رکھنے والے کنفیوژن کا شکار رہے یا شعوری و لاشعوری طور پر ریاستی بیانئے کو فروغ دینے والے نام نہاد دانشوروں کے توسط سے مایوسی پھیلانے کی بھر پور کوششیں جاری رہی کہ بلوچ قومی تحریک کمزور ہے، ان حالات میں انقلاب ہرگز نہیں آسکتا، بلوچ ریاست کا مقابلہ نہیں کر سکتا وغیرہ وغیرہ اور اس رد انقلابی سوچ کو آمرانہ جمھوریت کی آڑ میں کرپٹ ترین سلیکٹڈ پارلیمنٹیرینز، ڈیتھ اسکواڈز کا ریاست کی پشت پناہی میں پاور کا استعمال، پالیٹیکل ان اسٹیبلٹی، سیاسی کارکنان پر ریاستی کریک ڈاون میں شدت، مسلح محاز میں موقع پرست اور مفاد پرست ٹولہ، نظریاتی ڈیتھ اسکواڈز کا کردار ادا کرنے والے ایجنٹس نے مزید فروغ دیا۔

ادھر ریاست نے ہارڈ پاور استعمال کے نتیجے میں بلوچ قوم کا غم و غصہ اور بلوچ قومی تحریک سے انکی وابستگی ختم کرنے کی خاطر سافٹ پاور استعمال میں لایا، سیاسی شعور سے عاری افراد کو یا تو مال و دولت اور مراعات کا لالچ دیکر خاموش کروانے کی کوشش کی گئی، انھیں بطور ریاستی دلال، ایجنسٹس، ڈیتھ اسکواڈز میں بطور لیبر فورس استعمال کیا گیا، فوجی کارناموں کو چھپانے کے لئے سی ٹی ڈی کا بھیس بدل کر ریاست کی بربریت جاری ہے، مارو پھینکو پالیسی میں جعلی مقابلوں کا اظافہ کردیا گیا لیکن ان سب ہتھکنڈوں، پروپیگنڈوں، ریاستی بربریت، بی این ایم کے لیڈران و سیاسی کارکنان کی جبری گمشدگیوں، مسخ شدھ لاشیں ہیلی کاپٹروں سے پھینکنے، نفسیاتی طور خوف و ہراس قائم رکھنے کے باوجود عوامی محاز اتار چڑھاؤ کے ساتھ جاری و ساری رہا۔

اگر کوئی سیاسی نادانست میں حالیہ لانگ مارچ کی شکل میں عوامی موبلائزیشن، عوامی مزاحمت اور ریاستی بیانئے کو سیاسی و سائنسی بنیادوں پر کاونٹر کرنے کو یکدم کا ابھار سمجھ کر محض پر امن جدوجہد پر زور دیتا ہے تو اسکی سیاسی بلوغت پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے، بقول بابا خیر بخش مری کے مسلح جدوجہد ہی سب سے زیادھ دشمن کو تکلیف پہنچاتی ہے، جبری طور پر ریاست کی جانب سے اغوا کئے گئے لوگوں میں اکثریت سیاسی کارکنان کی ہی ہے، جو طلبہ سیاست یا عوامی محاز کے توسط سے سیاسی جدوجہد کر رہے تھے، ریاست نے طاقت کا استعمال کرکے سیاسی شعور کچلنے کے لئے جبری گمشدگیوں، مارو پھینکو پالیسی، جعلی مقابلوں کا سہارا لیا، دوسری قومیتوں اور عالمی دنیا کے سامنے اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لئے ریاست نے بلوچستان میں قومی تحریک کو انڈیا، اسرائیل کی سازش، خانہ جنگی، قبائلی جھگڑے وغیرہ قرار دینے کا ہر ممکن بیانیہ پھیلایا، موجودہ تحریک کو ہم بلوچ مزاحمتی تسلسل سے ہرگز الگ سانچے میں نہیں پرکھ سکتے، ہاں اس تحریک کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اسکی قیادت سیاسی شعور سے لیس بلوچ خواتین کر رہی ہیں، اس تحریک کے دارون بلوچ قوم جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے، اس تحریک کی توسط سے سیاسی موبلائزیشن گھر گھر پہنچ چکی ہے، اس تحریک کے دوران عوامی محاز سمیت مسلح محاز اور طلبہ سیاست بھی تاریخی ابھار کے ساتھ جدت و شدت سے جاری ہیں، اس تحریک کے توسط سے بلوچ قوم نے سوشل میڈیا کو سب سے مظبوط ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے ٹیکنالوجی کا استعمال بلوچ قومی تحریک کے حق میں موڑ دیا ہے، اس تحریک کی ایک خوبصورت کامیابی یہ بھی ہے کہ اس تحریک کے توسط سے کسی حد تک پنجاب کے تعلیم یافتہ اور دانشور طبقات کو بھی ریاست کا حقیقی چھرہ نظر آگیا ہے اور یہی اس تحریک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

اس وقت بلوچ قوم بالخصوص سیاسی کارکنان جو طلبہ سیاست یا عوامی محاز پر سیاست سے وابستہ ہیں انکی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ اس وسیع پیمانے پر عوامی موبلائزیشن کا فائدھ اٹھائیں، نوجوان طبقے کو زیادھ سے زیادہ سیاسی لٹریچر مہیا کرکے انکی سیاسی تربیت کریں، سوشل میڈیا پر ریاستی ٹرول برگیڈ سمیت ریاستی پراپیگنڈوں کو کاؤنٹر کرنے کے لئے سوشل میڈیا کے جدید استعمالات سیکھنے کے ساتھ ساتھ نئے ساتھیوں کو سکھائیں، سہی اور مظبوط ٹرینڈ، مثبت پراپیگنڈہ سیکھیں اور سکھائیں، سیاسی سرگرمیوں کا دائرہ کار وسیع کریں یہی وقت ہے کہ عوامی سطح پر ہر گھر تک بلوچ قومی جدوجہد کا پیغام سیاسی اور سائنسی بنیادوں پر پہنچائیں، نام نہاد الیکشنز سے قوم کو آگاہ کریں، الیکشنز کا بائیکاٹ کرنے کے کئے راہ ہموار کریں اور سب سے اہم بات کہ عوامی سطح پر احتجاجات، ہڑتالوں اور دیگر سول نافرمانی تحریک کے سیگمنٹس کو سیاسی بنیاد پر لیڈ کریں تاکہ مفاد پرست ٹولہ اور دیگر عناصر اس تحریک کو کمزور نہ کر سکیں اسے نقصان نہ پہنچا سکیں۔

موجودھ عوامی محاز کو منظم کرنے، وسیع پیمانے پر عوامی موبلائزیشن، ریاستی فیک پراپیگنڈہ کو کاؤنٹر کرنے، لوگوں میں نفسیاتی خوف کو ختم کرنے، قوم کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے اور بلوچ مسئلے پر سیاسی جدوجہد کے تسلسل کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لئے بلوچ قوم نے ان گنت قربانیاں دی ہیں، کئی سیاسی اکابرین نے سر دھڑ کی بازی لگائی ہے، ہزاروں شہداء کا لہو اس سیاسی اتحاد کو جوڑنے میں لگا ہے۔

ریاست اس وقت ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے، اس سیاسی تحریک کو کمزور اور ختم کرنے میں، بلوچ سیاسی جدوجہد یا دوسرے لفظوں میں عوامی محاز اپنی سیاسی بلوغت کی انتہا پر ہے، بلوچ قوم کا ہر فرد بشمول دانشور طبقہ، طلبہ، شاعر، ادیب، لکھاری، اساتذہ، تاجر، شوان( چرواہا)، کسان غرض ہر طبقے کو اس تحریک کو اپنا کر اسکی سیاسی باریک بینیوں کو سمجھ کر اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا، دشمن کی ہر چال کو سمجھ کر اسکو ناکام بنانا ہوگا اگر اب بھی بلوچ سیاسی کارکنان بالخصوص نوجوان طبقہ کو اپنی سیاسی زمہ داریوں کا احساس نہیں ہوا اگر اب بھی ہم نے اپنی زمہ داریاں احسن طریقے سے ادا نہیں کی، اگر اب بھی ہم کمفرٹ زون میں رہ کر اسی خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ یہ کسی اور کی زمہ داری ہے تو اس کے لئے تاریخ ہمیں سیاہ حروف میں یاد رکھے گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔