بادموافق خاموش ہوئی – برزکوہی

492

بادموافق خاموش ہوئی

تحریر: برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

انقلاب کی ترنم میں، تبدیلی کی شور اور آزادی کے حصول کے درمیان، ایک ایسی ماں، ایک ایسی خاموش آرکیسٹریٹر موجود ہے، جس کی قربانیاں ایک مہاکاوی نظم کی غیر تحریری آیات کی طرح گونجتی ہیں۔ وہ مہروان لمہ ایسی اٹل سنگ بنیاد ہے، جس پر تبدیلی کی عمارت کھڑی ہے، ان کی قربانیاں تاریخ کی گلیاروں میں گونجنے والی بے ساختہ دھنوں کی طرح ہیں۔

اس انقلابی ماں کی قربانیاں بے شمار ہیں، اور اس کے شب و روز بے غرضی کی تمثیل ہیں۔ ہر طلوع آفتاب کا استقبال فرصت سے نہیں، بلکہ مقصد کے لیے انتھک لگن سے کرنے والی وہ ماں، محنت سے بے نیاز ہاتھوں کے ساتھ، خود کو انقلاب کی آبیاری کے لیے وقف کر دیتی تھی، بنجر مٹی سے زندگی کو جھکانے والے باغبان کی نرمی سے اس کی ضروریات کو پورا کرتی۔ اس کی قربانیاں محض جسمانی نہیں ہیں بلکہ اس کی روح کی گہرائیوں تک پھیلی ہوئی تھیں۔

وہ خوشی سے ان لوریوں کا تبادلہ کرتی ہے، جو اس نے کبھی اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے انقلاب کی چیخوں کے ساتھ گنگنائی تھیں۔ اس کی قربانیوں کا گہوارہ نہ صرف اس کی اولاد بلکہ آنے والی نسلوں کے خواب بھی ہیں۔ وہ اپنے پیاروں کو چنگاریوں سے بچاتی، ان کی پریشانیوں کا بوجھ اپنے مضبوط کندھوں پر اٹھاتی۔ وہ گمنام ہیرو، لچک کی معمار، مصیبت کے پتھروں سے امید پیدا کردیتی تھی۔

اپنی قربانیوں کے ذریعے، وہ ایک میراث کو جنم دیتی ہے، جو اٹل یقین کی طاقت کا ثبوت ہے۔ وہ انقلاب کے ہنگامہ خیز اوپیرا میں گمنام بالیڈیئر بن جاتی ہیں، اس کی قربانیاں اس پس منظر کو پینٹ کرتی ہیں جس کے خلاف تاریخ اپنے صفحات کھولتی ہے۔

وقت کی تاریخ میں، انقلابی ماں انسانی روح کی لچک کے ثبوت کے طور پر کھڑی ہے۔ اس کی قربانیاں، اگرچہ سائے میں کھدی ہوئی ہیں، ایک ایسی روشنی پھیلاتی ہیں جو تاریخ کے دھندلے پن کو چھیدتے ہوئے، آنے والی نسلوں کے لیے راہوں کو روشن کردیتی ہے۔

براق باب، براقت، فطانت، ذکاوت، لطافت، نفاست، سخاوت اور شجاعت سے پچاس برس بلوچ قومی آزادی پر معتقد اور آزادی کے لیئے تلملی و مضطر عہد واثق جنگ بقاء میں فناء نہیں ایک تاریخ بن گیا۔ (لمہ: کنا چناء نم تاریخ کٹارے، نہ نہ نہ لمہ داسکان ہرادے دا دشمن پین ترندو ورندی خواھک تاریخ نن کٹتاھوں تاریخ، بادل و اونا سنگت آک کٹار) اماں: میرے بیٹے آپ تاریخ جیت گئے، نہیں نہیں اماں، ابھی تک کہاں، دشمن پر اور شدت کے ساتھ حملوں کی ضرورت ہے۔ تاریخ ہم نہیں بادل اور اسکے سنگت جیت گئے۔

نوشکی ایف سی کیمپ پر گنجل فدائی آپریشن کے بعد، مہروان ماں کی مہر و حوصلے کی وہ یادیں، وہ باتیں، ابھی تک ایک امید اور حوصلہ بن کر ساتھ دے رہے ہیں۔ مگر، آج وہ آواز بلوچستان کی درد و مہر کو لیکر نوشکل کے قلب خلق مینگل میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے مدفن ہوکر خاموش ہوئی۔ جب مجھے مہروان لمہ کی ہم سے بلکہ قومی جنگ سے جسمانی ہجر کی خبر ملی تو، جنگی یادوں کی افسردہ کفیت میں ایک دم میرے دل و دماغ میں اسرائیلی بوڑھی خاتون لیڈر گولڈا مائیر کی وہ باتیں آئیں کہ “کیا واقعی عورتیں جنگ کے بارے میں مردوں سے مخلتف نظریہ رکھتی ہیں، تو میں نے خود سے کہا نہیں، ان کچھ سالوں میں اور گھسی پٹی جنگ کے دنوں کے دوران میں نے خود کو بہت بار ایسے فیصلے لینے کے حالات میں پایا ہے۔ مثلاً ہمارے فوجی جوانوں کو لڑنے کے لیے ایسے علاقوں میں بیجھنا
جہاں سے وہ کبھی واپس نہیں آسکیں گے، یا پھر انہیں ان معرکوں کے لیے تربیت دینا جن کے بارے میں دوران جنگ خدا جانے کتنے ہی افراد دونوں اطراف سے اپنے جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور میں اس وجہ سے اذیت اٹھاتی تھی لیکن میں وہ سارے احکامات ایسے ہی دیتی تھی، جیسے کوئی مرد دیتا ہے اور جب میں ان کے بارے میں سوچتی ہوں تو میں یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ میں اتنی عزت برداشت کرتی تھی، جتنی کہ ان حالات میں ایک مرد کرتا ہے۔”

مرید کو اپنی کوکھ سے جنم دینی والی خود مرید کی مرید بن گئی تھی۔ ماں کے قدموں تلے جنت کو تو دیکھا نہیں البتہ بلوچستان کو دیکھ لیا۔

ایک پراعتماد، پر حوصلہ اور پرامید ماں نہ جانے کتنے ناامید اور بے حوصلہ بیٹیوں اور بیٹوں کے لیے امید اور حوصلوں کی عمیق جذبہ بن کر حوصلہ افزائی کرتی رہیگی۔

صرف بلوچ سماج میں ہی نہیں بلکہ ہر سماج، ہر قوم میں یہ غیر منطقی و غیر سائنسی و غیر علمی اور انتہائی تنگ نظر سوچ موجود رہا ہے کہ مرد کے نسبت خواتین کمزور ہیں۔ حالانکہ تحقیق و عمل سے ثابت ہوتی ہے
کہ یہ مبالغہ آرائی اور جہل بسیط سوچ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

مہروان لمہ ۱۹۳۷ سے ۲۰۲۳ تک بلوچ قومی آزادی کی جنگ کی نہ صرف کھل کر حمایت کرتی تھی بلکہ اپنے بچوں سمیت بلوچ قوم کی ذہنی و فکری تربیت میں اور خود عملی شرکت میں آخری سانسوں تک آزادی کی جنگ میں ایک کلیدی کردار ادا کرتی رہی۔ پچاس سال سے زائد عرصے تک آزادی کی جنگ، آزادی کی امید اور آزادی کا سفر مہروان لمہ کو جھکا نہیں سکا، تھکا نہیں سکا، خائف نہیں کرسکا۔ وہ باد مخالف ہو یا باد موافق، کھڑی ہوکر قومی آزادی کی پرکھٹن اور پرخار راہوں میں سفر کرتی رہی اور ہر قدم، ہر حالت میں اپنے کوہ زاد فرزندوں کو حوصلہ دیتے ہوئی کہتی تھی کہ “میرے بیٹے جس راہ کے آپ لوگ مسافر ہیں، وہاں کبھی بھی مڑ کر نہیں دیکھنا، ہمت نہیں ہارنا۔”

نپولین بونا پارٹ کیا خوب کہتا ہے کہ “مجھے عظیم مائیں دو، میں تمہیں عظیم قوم دونگا۔” ہماری مہروان انقلابی لمہ اپنے حوصلہ، ہمت اور مستقل مزاجی سے ویتنامی لیڈر ہوچی منہ کی اس بات کی تردید کرتی ہے کہ “لیڈر وہ ہوتا ہے، جو جنگ کو کم مدت میں منزل تک پہنچا دے۔ جب جنگ طویل مدت ہوگی تو لوگ تھکاوٹ کا شکار ہونگے۔” پچاس سال مختلف ادوار میں مختلف مشکلات، پریشانیوں، تکالیف اور چیلنجز مہروان لمہ کو شکست نہیں دے سکے اور نا کبھی تھکا سکے۔ موت تو قانون فطرت ہے، وہ سچ ہے جسکا زندگی کے ساتھ فطری رشتہ ہے، جس سے بچنا ممکن نہیں ہے۔ اور وہ موت شکست نہیں جیت ہوتی ہے، جو ایک فکر، ایک مجموعی خواب اور ایک مقصد کے بعد نصیب ہو۔ بامقصد موت، بے مقصد زندگی سے ہزار درجہ بہتر ہے۔

جو فرد کسی مقصد کے لیئے مر نہیں سکتا، وہ زندہ رہنے کے لیے موزوں نہیں۔ ہماری زندگی اس دن ختم ہونا شروع ہوتی ہے، جب ہم کچھ نہ کریں اور اہم معاملات پر خاموشی اختیار کرلیں۔ زندگی اور موت کی کشمکش اور جنگ کو جب تک کوئی ذی شعور، عقلی تقاضات اور شعور سے مضاف نقطہ نظر سے پرکھنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا، اس وقت موت اور زندگی کے فطری رشتے کو بھول کر موت کو صرف وحشت ناک اور خوف ناک ہی سمجھ کر مسلسل موت سے عبث راہ فراریت کی کوشش کرتا ہے۔

مہروان لمہ، تمام بلوچ ماوں کے لیے مستقل مزاجی، بلاخوف، اور مسلسل بلا تھکاوٹ ہمت و حوصلہ بڑھانے والی ایک علامت بن گئی ہے، اور ہر بلوچ ماں آج اپنے بچے اور بچیوں سمیت ہر بلوچ فرزند کے لیئے حوصلہ و ہمت بن کر مہروان لمہ کی طرح تاریخ کی صفحوں میں ایک بہادر اور مستقل مزاج خاتون کی طرح تجمل ہو۔

شام کی ڈھلتی ہوئی روشنی میں، جیسے ہی سورج افق کو الوداع کہہ رہا ہے، میں آپ کو یہ الوداعی تحریر لکھ رہا ہوں، اے مہروان انقلابی ماں، غیر متزلزل عزم کی علمبردار اور تبدیلی کے راستے کو روشن کرنے والے شعلے کی محافظ۔ آپ کی موجودگی، ہماری زندگی کی رات کے آسمان میں ایک آسمانی برج، اپنے پیچھے وقت کے تانے بانے میں جڑی ہوئی میراث چھوڑ کر اب لامحدود وسعت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ آپ کی روانگی، خزاں کی ہوا کے جھونکے کی مترادف ہے، جو متحرک پودوں کو الوداع کہہ رہی ہے، منتقلی اور تبدیلی کی کہانیاں سناتی ہے۔

جب آپ آسمانی سفر کا آغاز کریں گے، تو ستارے آپ کی روح کی رہنمائی کرنے والے مینار بن کر، آپ کے راستے پر اپنی چمکیلی گلے لگائیں گے۔ آپ کا جوہر، قربانی اور بہادری کے دھاگوں سے بُنی ہوئی ٹیپسٹری، اب ایک نرم زیفیر بن چکا ہے، جو آپ کی ہمت کے سرگوشیوں کو دور دراز ساحلوں تک لے جاکر مناظر سے گزرتا ہے۔

الوداع، پیاری انقلابی ماں، آپ کی رخصتی آدھی رات کے آسمان پر پھیلتے ہوئے دومکیت کی یاد دلا دیتی ہے- ایک تابناک چمک جو کائنات پر ایک انمٹ نشان چھوڑ جاتی ہے۔ آپ کے الفاظ، ایک ایسا ترانہ، جو تبدیلی کے گلیاروں میں گونجتی تھی، اب وہ ہمارے دلوں کے ایوانوں میں گونجتی رہے گی۔

جیسے آپ اس فانی زندگی کو الوداع کہتے ہیں، یہ جان لیں کہ آپ کی میراث تاریخ کے باغات میں ایک لازوال یادگار کی طرح زندہ رہے گی۔ اس پھول کی طرح جو گزرتے وقت کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے، لیکن ہواؤں کے کندھوں پر اپنے خوشبودار پنکھڑیوں کو بکھیردیتا ہے، تیرا اثر پھیلے گا، تیرے فضل سے چھونے والوں کی روحوں میں امنگوں کی پرورش اور انقلاب برپا کرے گا۔

اے انقلابی ماں، ہم آپ کو الوداع کرتے ہیں، دل بھاری ہے لیکن ہمارے دل آپ کی قربانیوں، آپ کی لڑی جانے والی لڑائیوں، اور جو خواب آپ نے ہمارے اندر روشن کیے تھے، ان کے لیے تشکر سے بھرے ہوئے ہیں۔ آپ کی رخصتی، آپ کے غیر متزلزل عزم کے لیے ایک تلخ کلام، ہماری دنیا میں ایک خلا چھوڑ کر جا رہی ہے، پھر بھی آپ کی روح اس شعلے کے ابدی محافظ کے طور پر قائم ہیں۔

اے پیاری مہروان انقلابی ماں، ہم آپ کو الوداع کہتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ آپ کا جوہر، زمانوں سے بہنے والے لازوال دریا کی طرح، تاریخ کی تاریخوں میں اپنا راستہ تراشتی رہے گی، جو آپ کی عظیم روح کیلئے لازوال خراج عقیدت ہے۔ الوداع، پیاری انقلابی ماں، آپ کی رخصتی اختتام کی نشانی نہیں ہے، بلکہ آسمانی زندگی میں تبدیلی، فانی وجود کی حدود سے باہر کا سفر، اپنے پیچھے ایک میراث چھوڑے گی جو ابد تک قائم رہے گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔