مقتول بالاچ کے لواحقین کی درخواست لینے سے پولیس کا انکار

332

تربت میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں قتل ہونے والے لاپتہ نوجوان بالاچ بلوچ کے لواحقین نے سی ڈی ٹی کے خلاف مقدمہ کا دراخواست پیش کردیا، جبکہ پولیس نے لینے سے انکار کردیا ہے۔

بالاچ مولابخش کے لواحقین کا کہنا ہیکہ بالاچ کو 29 اکتوبر کی رات کو انکے گھر سے اٹھایا گیا اور 21 نومبر کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے انہیں عدالت میں پیش کرکے 10 دن کی ریمانڈ بھی حاصل کی۔

انہوں نے کہاکہ جبکہ 23 نومبر کو بالاچ سمیت چار نوجوانوں کو مسلحہ مقابلے میں مارنے کا سی ٹی ڈی نے جھوٹا دعویٰ کیا ہے جسکے خلاف لواحقین دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔

واضح رہے کہ بالاچ بلوچ کی میت کے ساتھ شہید فدا احمد چوک پر لواحقین کا دھرنا جاری ہے جس میں سیاسی و سماجی تنظیموں اور کارکناں کی کثیر تعداد موجود ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ مقتولین کے قتل کا مقدمہ سی ٹی ڈی کے خلاف درج کی جائے اور جوڈیشل انکوائری کمیشن کے ذریعے فیک انکاؤنٹرز کی تحقیقات کی جائے۔

جبکہ واقعہ کے خلاف کل تربت میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا گیا ہے