تربت دھرنا: کل مکران بھر میں شٹرڈاؤن اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

202

تربت سی ٹی ڈی کے جعلی مقابلے میں قتل ہونے والے زیر حراست بالاچ بلوچ کے لواحقین اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کیچ نے دھرنا گاہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ہم گزشتہ پانچ دنوں سے فدا احمد چوک پر شہید بالاچ بلوچ کی میت کے ساتھ ریاستی جبر کے شکار سینکڑوں متاثرین کے ہمراہ احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ریاست سے انصاف اور بلوچستان میں ریاستی قتل و غارت کی بندش کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ بدقسمتی سے ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ بلوچستان میں اپنی قتل و غارت کا سلسلہ جاری رکھے گا اور اس سے کسی بھی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔

‎انہوں نے کہاکہ آج احتجاجی دھرنے کو، جو شہید بالاچ بلوچ کی میت کے ساتھ جاری ہے پانچ دن مکمل ہو چکے ہیں دھرنے کے ابتدائی روز سے جو ہم نے پئش کئے تھے وہ یہ تھے، سی ٹی اپنا جھوٹا بیانیہ واپس لے۔سی ٹی ڈی کے جعلی مقابلوں کے خلاف جیوڈیشنری انکوہری بٹھا دی جائے۔، وزیر اعظم و وزیر اعلیٰ فوری طور پر جعلی مقابلوں کے بند کرنے کی یقین دہانی کرائے اور سپریم کورٹ کی جانب سے فیک انکاونٹرز پہ از خود نوٹس لیا جائے جبکہ تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے ، سی ٹی ڈی کے مسلسل جعلی مقابلوں میں ملوث ہونے پہ RO کو معطل کیا جائے۔

‎لیکن ریاست ابھی تک ایک بھی مطالبہ قبول کرنا تو دور کی بات ہمارے دھرنے تک کوتمسخرہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہے اول تو سی ٹی ڈی کی جانب سے جعلی مقابلے کا بیانیہ، پھر احتجاج کے بعد دوسری ڈرامائی بیانیہ کا پیش کرنا اور اسکے بعد اب تک مزاکرات کے لیے جو لوگ آئے ہے وہ لواحقین کے زخموں پہ نمک پاشی کے علاوہ کچھ نہیں۔ مزاکرات کرنے کے لیے ایسے لوگوں کو بھیجا جارہا ہے جو آتے ہی کہتے کہ ہمارے اختیار میں کچھ نہیں، پھر وہی لوگ ہائی کورٹ کے اُس آرڈر کو لے آتے جس پہ عمل درآمد ہی نہیں ہوا، اور پس پردہ یہی لوگ خاندان کو ہر قسم کے زہنی دباو دینے کی کاوشوں میں ہے کہ وہ اس احتجاج سے پیچھے ہٹ جائے۔ کورٹ کی طرف سے جو حکم نامہ جاری کیا گیا تھا کہ شہید بالاچ اور دیگر لاپتہ افراد کو فیک انکاؤنٹر میں قتل کرنے کا مقدمہ سی ٹی ڈی کے خلاف درج کیا جائے لیکن ریاستی اداروں نے عدالت کے اس حکم نامے کو ردی کا ٹکرا سمجھ کر پھینک دیا ہے جس طرح انور الحق کاکڑ کو پاکستان کے سب سے بڑے عدالت میں پیش ہونے کو کہا تو انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ بلوچ نسل کشی کے معاملے میں ریاست اور ان کے حکمران کسی کے بھی جوابدہ نہیں ہیں کیونکہ انہیں ریاستی اداروں کی سرپرستی حاصل ہے اور یہ تمام قتل و غیرت گری بلوچستان میں ریاست کے ایما پر ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے بلوچستان میں حالات دن بدن گھمبیر بنتے جا رہے ہیں۔

‎انہوں نے کہاکہ اس احتجاج کے سلسلے میں آج مظاہرین نے ڈی بلوچ جاکر پانچ گھنٹے تک دھرنا دیا اور روڈ بلاک کیا جبکہ دو دن تک کیچ میں بلوچ عوام کی مدد سے مکمل طور پر شٹر ڈاؤن ہڑتال رہا ہے لیکن ان تمام اقدامات سے ریاست کے کان میں جو تک نہیں رینگتی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بالاچ کا قتل سی ٹی ڈی یا ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ یہ پورے ریاست کا بنایا ہوا منصوبہ ہے جو بلوچستان بھر میں نسل کشی کا ایک الگ فیز شروع کر چکے ہیں اگر ان حالات میں بلوچ قوم منظم نہیں ہوے اور اس ریاستی قتل وغارت کے خلاف مزاحمت نہیں کیا تو یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا،بلوچستان کے گھر گھر سے ریاست لوگوں کو اٹھا کر انہیں ایسے ہی فیک انکاؤنٹرز میں قتل کرتا جائے گا اس لیے اس بات کی شدت سے ضرورت ہے کہ اس وقت بلوچ قوم ایک مضبوط اور منظم سیاسی طاقت سے ریاست کو یہ پیغام دیں کہ بلوچ قوم ریاست کی حالیہ بلوچ نسل کش پالیسی کسی بھی صورت قبول نہیں کرے گا اور اس کے خلاف شدت سے مزاحمت کرے گا۔ آج شہید بالاچ کی میت اور خاندان کے ساتھ ہزاروں لوگ شریک ہوکر صرف بالاچ کو انصاف فراہم کرنے کیلئے احتجاج نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ اپنے مستقبل کیلئے اور اپنے جبری گمشدہ پیاروں کیلئے اس جدوجہد میں شریک ہیں اور اسی طرح بلوچستان بھر میں لوگ منظم انداز میں جدوجہد کیلئے گھروں سے نکلیں کیونکہ اگر اس ریاستی ظلم اور ناانصافی کے خلاف مزاحمت نہیں کی گئی تو ہر گھر سے ایک بالاچ اسی طرح لاش بنتا جائے گا۔

‎لواحقین نے کہاکہ ریاست کی کوشش ہے کہ بلوچستان میں ایک ایسا ماحول بنایا جائے جہاں سے ریاست ایک طرف بلوچ وسائل کا بے دریغ لوٹ مار کریں اور دوسری جانب بلوچ نسل کشی کو تیزی سے جاری رکھا گیا ہے، جبر کی انتہا پہ پہنچ کر انہیں نکل مقانی کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے،۔ آج بلوچستان بھر سے لوگ اغوا ہو رہے ہیں اور ان کا قتل عام کیا جا رہا ہے اگر یہ سلسلہ نہیں روکا تو یہ آگ پورے بلوچستان میں پھیل جائے گا اس لیے مزاحمت صرف ضروری نہیں بلکہ فرض بن چکا ہے۔ شہید بالاچ کی تحریک کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ اسی سلسلے میں کل پورے مکران بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرتے ہے، تاجر برادری سے درخوست ہے کہ وہ اس عمل میں بھر پور تعاون کریں اور مکران بھر سے لوگ اس شٹر ڈاؤن ہڑتال میں شرکت کرکے ریاست کو پیغام دیں کہ بلوچستان کے حوالے سے ریاستی پالیسی بلوچ قوم کسی بھی صورت قبول نہیں کرے گی۔ جبکہ ہم آخر میں ریاست کو 24 گھنٹے کی الٹی میٹم دیتے ہیں اگر انہوں نے پیش کردہ ڈیمانڈز پر 24 گھنٹوں کے دوران سنجیدہ عمل درآمد نا کیا تو اسکے بعد آئندہ لائعہ عمل کا اعلان کیا جائےجو کو مزید سخت ہوگی۔