اسرائیل اور حماس میں یرغمالوں کی رہائی اور عارضی جنگ بندی کا معاہدہ

177

اسرائیلی کابینہ نے حماس کے ساتھ یرغمالوں کی رہائی کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت آئندہ چند روز میں کم از کم 50 یرغمال رہا کر دئیے جائیں گے۔

اس سے قبل اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل حماس کے خلاف جنگ جاری رکھے گا، چاہے حماس کے ساتھ عارضی جنگ بندی ہی کیوں نہ ہو جائے۔ منگل کو جنگ بندی سے متعلق اسرائیل کی کابینہ کے اجلاس سے قبل نیتن یاہو نے لڑائی جاری رکھنے کا عزم کیا اور کہا کہ ‘ہم حالت جنگ میں ہیں۔ اور ہم اس جنگ کو جاری رکھیں گے’۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل ‘اپنے اہداف کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹے گا’۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ بات ایک ایسے وقت پر کہی تھی، جب اسرائیل اور حماس بدھ کی صبح غزہ کی پٹی میں قید درجنوں یرغمالوں کو اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے بدلے رہا کرنے کے لیے چھ ہفتے سے جاری تباہ کن جنگ کو عارضی طور پر روکنے کے ایک معاہدے کے قریب نظر آرہے تھے۔

اسرائیل، امریکہ اور قطر، حماس کے ساتھ یرغمالوں کی رہائی کے لیے ہفتوں سے بات چیت کر رہے تھے، جس میں عارضی جنگ بندی شامل ہے۔ یعنی حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 240 میں سے تقریباً 50 افراد کی رہائی کے بدلے غزہ میں اسرائیل اپنی کارروائیاں کئی دنوں کے لیے روک دے گا۔

معاہدے کسے قبل فریقوں کی جانب سے امید کا اظہار

واشنگٹن میں، صدر جو بائیڈن نے منگل کو کہا تھا کہ کچھ یرغمالوں کو رہا کرنے کا معاہدہ “بہت قریب” ہے۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں کہا کہ “ہم ان میں سے کچھ یرغمالوں کو بہت جلد گھر لاسکتے ہیں۔”
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے امید ظاہر کی اور صحافیوں کو بتایا کہ ’’ہم اس وقت کسی معاہدے تک پہنچنے کے قر یب ترین مقام پر ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہم مذاکرات کے لئے ایک “اہم اور آخری مرحلے” میں ہیں۔
حماس کے ایک سینئر عہدیدار عزت رشق نے منگل کو کہا کہ “آنے والے گھنٹوں میں” ایک معاہدہ طے پاسکتا ہے جس میں حماس یرغمال افراد کو رہا کرے گی اور اسرائیل فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔
حماس کے جلاوطن رہنما اسماعیل ہنیہ نے بھی کہا تھاکہ وہ ایک معاہدے کے قریب ہیں۔

اسرائیل کا موقف

اسرائیل نے حماس کی عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنے اور تمام یرغمال افراد کی واپسی تک جنگ جاری رکھنے کا عزم کیا ہے.

نیتن یاہو نے تسلیم کیا کہ کابینہ کو سخت فیصلے کا سامنا ہوا، لیکن جنگ بندی کی حمایت کرنا درست کام تھا۔

کچھ سخت گیر وزراء کی مخالفت کے باوجود نیتن یاہو کو اس اقدام کو منظور کرنے کے لیے بظاہر کافی حمایت حاصل ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ لڑائی میں توقف کے دوران، انٹیلی جنس کوششوں کو برقرار رکھا جائے گا، جس سے فوج کو جنگ کے اگلے مراحل کی تیاری کا موقع ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ غزہ اسرائیل کے لیےخطرہ نہیں رہے گا۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسرائیلی فوجیوں کی شمالی غزہ کے ایک شہری پناہ گزین کیمپ میں فلسطینی عسکریت پسندوں سے لڑائی ہوئی ہے۔

اسپتالوں کے ارد گرد کا علاقہ مریضوں اور پناہ گزینوں کے خاندانوں سے بھرا ہوا ہے۔

متوقع جنگ بندی معاہدہ

متوقع جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ معاہدے میں غزہ میں اسرائیل کے حملے پانچ دن کے لیے روکنا اور اسرائیل میں زیر حراست 150 فلسطینی قیدیوں کے بدلے حماس کے زیر حراست 50 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے۔

اسرائیل کے چینل 12 ٹی وی نے کہا ہے کہ پہلی رہائی جمعرات یا جمعہ کو ہوسکتی ہے اور کئی دنوں تک جاری رہے گی۔