ہم بی ایس او کے موجودہ کابینہ کو مکمل طور پر مسترد کرکے تاریخی طور پر اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ سابق رہنمائوں کا بیان

500

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق رہنماؤں مرکزی سینئر وائس چیئرمین اشرف بلوچ، جونیئر وائس چیئرمین حفیظ بلوچ، سینئر جوائنٹ سیکرٹری غلام دستگیر بلوچ، جونئیر جوائنٹ سیکرٹری عاطف بلوچ، سابق ممبران مرکزی کمیٹی آغا عدنان شاہ بلوچ، ناصر زہری بلوچ، عزیز بلوچ، آغا الیاس شاہ بلوچ، شاہ بخش بلوچ، ثناء بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جس کو ہمیشہ دھڑہ بندی آپسی اختلاف، آئین شکنی، پسند و ناپسند اور پیرول پر چلا کر مختلف حوالوں سے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں کے کچھ ہم خیالوں کے اکھٹے ہونے کو کونسل سیشن کا نام دے کر محض چند لوگوں میں زاتی پسند و ناپسند کے بنیاد پر عہدے تقسیم کئے گئے۔ مکمل طور پر غیر آئینی جبکہ ایک قبائلی جرگے کی مانند فیصلوں کو مسلط کرنے کے سوا اس کونسل سیشن کی تاریخ میں کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔

انھوں نے کہاہے کہ جب گذشتہ مرکزی کمیٹی میں کونسل سیشن کے انعقاد کا فیصلہ ہوا تو زونز کے لئے کونسلران کے تعداد کے تعین پر مرکزی کمیٹی کے فیصلے کو بالائے طاق رکھا گیا جس پر 5 تا 6 اکتوبر ہمارے ریکوزیشن پر دوبارہ مرکزی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ مرکزی کمیٹی نے مرکزی سیکرٹری رپورٹ پر مکمل بحث کرکے کونسلران کے چناو و تعین کو مکمل طور پر غیر آئینی قرار دیا۔ 4 زونز کے علاوہ کسی زون پر بھی کونسلران کے الیکشن جنرل باڈی تک منعقد نہیں کی گئی تھی جسکی سب سے بڑی ثبوت کوئٹہ زون جوکہ سب سے بڑا زون ہے کے کونسلران کا انتخاب جنرل باڈی جسمیں زون کے تمام ممبران شامل ہوتے ہے کے بجائے ورکنگ باڈی اجلاس منعقد کرکے کی گئی۔

انھوں نے کہاہے کہ جب مرکزی کمیٹی کا اجلاس اختتام پزیر و فیصلوں پر سرکلر جاری ہورہا تھا تو برطانیہ کے استحصالی طرز پر بی ایس او کے لئے بی این پی کے وائسرائے پر مشتمل ٹیم کی شکل میں ایک ٹیم جس نے دھمکیوں زور زبردستی و قبائلی طرز کی میڑھ پر مرکزی کمیٹی کے فیصلے کو روکا جس پر مرکزی کمیٹی کو تاریخی طور پر ہمیشہ شرمدگی رہے گی۔
جب مرکزی کمیٹی کے فیصلے کو روکا گیا تو دوستوں کو اس بنیاد پر کونسل سیشن میں راضی کیا گیا کہ کونسل سیشن معمالات کا جائزہ لے گا لیکن پھر الیکشن کمیٹی تشکیل دے کر 3 بجے تک الیکشن کے عمل کو روک کر رات کے تاریکی میں من پسند نتائج کو ڈاکٹر قدوس بلوچ اور جہانگیر بلوچ نے بی ایس او کو اپنے من پسند دوستوں کے حوالے کرکے دھاندلی دھمکیوں اور لالچ کی انتہاء قائم کی گئی۔ کونسل سیشن کے دوران جہانگیر بلوچ سمیت پارٹی سے گزارش کی گئی کہ بی ایس او پر اتنا بڑا ظلم نہ کرے لیکن جہانگیر نے ان شہداء کا خیال نہیں کیا جس کا واسطہ دے کر آئینی سیشن کرنے کی استدعا کی گئی۔

انھوں نے کہاہے کہ گذشتہ کونسل سیشن میں بھی ایک نااہل علم و سیاست سے عاری شخص کو چیئرمین بنا کر آئندہ کے لئے تنظیم حوالہ کیا گیا جس کی وجہ سے تنظیم بحران کا شکار رہا۔ چیئرمین جہانگیر کو بارہا آگاہ کرنے کے باوجود وہ ہمیشہ ہر اکثریتی فیصلے کو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر مسترد کرکے بحرانی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرتا تھا لیکن ہم نے ہمیشہ اجتماعی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تنظیم کے سینے میں چھرا گھونپا۔ دوسری جانب پارٹی سے امیدیں وابستہ کرکے اس آس میں تھے کہ وہ ثالثی کا کردار ادا کرکے مثبت کردار ادا کریں گے لیکن امیدوں کے برعکس مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

انھوں نے بیان میں کہاہے کہ جہانگیر بلوچ جسے شہید چیئرمین منظور بلوچ کی قربانیوں کے بدولت بی ایس او کے چیئرمین بننے کا اعزاز حاصل ہوا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ عمل شہید چیئرمین منظور بلوچ کی قربانیوں کے ساتھ ناانصافی تھی۔ جہانگیر بلوچ تنظیم میں روز اول سے خوشامد ٹولے کے ہاتھوں یرغمال ہوکر غیر آئینی فیصلوں کے مرتکب ہوتے رہے جبکہ کابینہ میں موجود تمام ساتھیوں کے گزارش کرنے کے باوجود وہ الزام تراشیوں سے کام لیتے رہے جس کی سزا بی ایس او کو ملی۔
بی ایس او کو کمزور کرنے و اسکو چند مخصوص لوگوں کے حوالے کرکے شو پیس رکھنے کی پالیسی گذشتہ کئی کونسل سیںشنز سے جاری ہے یہی وجہ کہ تنظیم کو شو پیس بنا کر مکمل طور پر تنقیدی سوچ سے بری الذمہ کیا جاچکا ہے۔ بی ایس او کے کمزور حالت کی وجہ سے پارلیمانی سیاست کے نام پر ضمیر فروشی، کرپشن کلچر، کی وجہ سے عام سیاسی کارکن سیاسی عمل سے بیزار ہے۔ بی ایس او میں غیر آئینی عوامل پر مبنی کابینہ کے انتنخاب کو مسترد کرتے ہیں۔

انھوں نے کہاہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر سردار اختر مینگل و بی این پی کے مرکزی کمیٹی سے اپیل کرتے ہیں کہ مداخلت کرکے بی ایس او کی اس بحرانی کیفیت کی حوصلہ شکنی کریں۔
ہمارے احتجاج کا مقصد کسی صورت کسی نئے دھڑے کا اعلان یا تقسیم در تقسیم نہیں ہے اگر بی این پی کے طرف سے تنظیمی طور پر باقائدہ اختر جان مینگل کے طرف سے ہماری رہنمائی یا فیصلوں پر اثر انداز عمل ہوتا جسے ہم بی ایس او کے آئین کے دائرے میں رہ کر قبول کرتے لیکن ساری عمل مکمل طور پر زاتی بنیادوں پر بغیر کسی مینڈیٹ کے ہوئی ہے جوکہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ہم موجودہ کابینہ کو مکمل طور پر مسترد کرکے تاریخی طور پر اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔