اسرائیل اور حماس میں لڑائی سے ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز

275

جنوبی اسرائیل کے متعدد علاقوں میں اب بھی شدید لڑائی جاری ہے، جبکہ غزہ پر رات بھر اسرائیل کے حملے جاری رہے۔ امریکہ نے اسرائیل کی حمایت کے لیے خطے میں بحری جہاز اور مزید جنگی طیارے تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

گزشتہ سنیچر کی صبح شروع ہونے والے حماس کے ایک بڑے مربوط حملے کے بعد سے اسرائیل اور غزہ میں اب تک 1,000 سے بھی زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے تقریبا ًسات سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ فلسطینی حکام کے مطابق غزہ پر ہونے والی بمباری میں کم سے کم 413 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جس میں درجنوں بچے بھی شامل ہیں۔ اس تنازعے میں اب تک ہزاروں افراد زخمی بھی ہو چکے ہیں۔

غزہ کے بیشتر ہسپتال زخمیوں سے بھرے ہیں اور اسرائیل کی جانب سے بجلی بند کر دیے جانے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ کا واحد پاور پلانٹ ہی اب بجلی کا آخری ذریعہ ہے اور چند دنوں میں اس کا بھی ایندھن ختم ہوسکتا ہے۔

 حماس کے جنگجوؤں نے ہفتے کی صبح اسرائیل پر ہزاروں راکٹ داغے تھے، جس کا سلسلہ رات کو بھی جاری رہا۔ غزہ پر بھی اسرائیل کی زبردست بمباری جاری ہے جبکہ جنوبی اسرائیل کے متعدد علاقوں میں اب بھی لڑائی جاری ہے، جہاں حماس کے جنگجو داخل ہو گئے تھے۔ ادھر اسرائیل نے غزہ میں آپریشن کے لیے ایک لاکھ فوجیوں کو جمع کیا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں، فضائی حملوں سے اب تک 123,000 فلسطینی بے گھر ہوئے ہیں جن میں سے 74,000 کے قریب اسکولوں میں پناہ لینے کے خواہاں ہیں۔

ادھر تازہ اطلاعات کے مطابق پیر کے روز اس لڑائی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کو اندیشہ ہے کہ تیل پیدا کرنے والے اس خطے میں تنازعے کے طول پکڑنے کا امکان ہے۔

اسرائیل کے لیے پروازوں کی منسوخی

ایشیائی ممالک کی متعدد ایئر لائنز نے ملک میں سکیورٹی کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

چین اور اسرائیل کے درمیان پرواز کرنے والی واحد چینی ایئر لائن ہینان ایئرلائن نے شنگھائی اور تل ابیب کے درمیان پروازیں منسوخ کر دیں، جبکہ کیتھے پیسفک نے بھی منگل کو ہانگ کانگ اور تل ابیب کے درمیان اپنی پروازیں منسوخ کر دیں۔

کورین ایئر نے بھی پیر کو بندرگاہی شہر انچیون اور تل ابیب کے درمیان اپنی پرواز منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اسے توقع ہے کہ مستقبل کی پروازیں بے قاعدگی سے ہوں گی۔

اسرائیل کے لیے امریکی کی حمایت اور جنگی جہاز کی تعیناتی

اس دوران مریکہ نے اسرائیل کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اپنے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو اسرائیل کے قریب لے جانے کا اعلان کیا ہے اور خطے میں مزید جنگی طیارے بھی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صدر جو بائیڈن نے تل ابیب کے لیے واشنگٹن کی ‘چٹان کی طرح ٹھوس’ حمایت کا وعدہ کیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اپنے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اسرائیل کو جنگی ساز و سامان فراہم کرنے کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی تعداد میں اضافہ کرے گا۔

آسٹن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ”امریکی حکومت تیزی سے اسرائیلی دفاعی افواج کو اضافی ساز و سامان مہیا کرنے کے ساتھ ہی گولہ بارود بھی فراہم کرے گی۔”

وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کونسل کے ترجمان کے مطابق اسرائیل پر حماس کے حملے کے آغاز سے اب تک کئی امریکی شہری بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ”ہم متعدد امریکی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

”برطانوی وزیر اعظم رشی سونک نے بھی اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی ”مستقل حمایت” کا وعدہ کیا  اور کہا کہ ”ہم ہر ممکن مدد کریں گے اور دہشت گردی کامیاب نہیں ہو گی۔”

ایران کا حملے میں ملوث ہونے کی تردید

ایران نے حماس کی طرف سے اسرائیل کے اندر شروع کیے گئے بے مثال حملوں میں ملوث ہونے کی بھی تردید کی ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے ایک بیان میں کہا کہ ”ہم فلسطین کی غیر متزلزل حمایت میں پرزور طور پر کھڑے ہیں، تاہم ہم فلسطین کے اس ردعمل میں شامل نہیں ہیں کیونکہ یہ صرف اور صرف فلسطین نے کیا ہے۔”

اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر کی حماس پر تنقید

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر نے اتوار کے روز کہا کہ غزہ میں اسرائیلیوں پر حملے جنگی جرائم ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل اقوام متحدہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی ایلچی گیلاد اردان نے یہ بھی کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ حماس کے فوجی ڈھانچے کو ”مٹا دیا” جائے۔

انہوں نے کہا، ”ان وحشیوں کے ساتھ استدلال کا دور ختم ہوگیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حماس کے دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کر دیا جائے، اسے مکمل طور پر مٹا دیا جائے، تاکہ اس طرح کی ہولناکی دوبارہ کبھی نہ ہو۔”

حماس کے عسکریت پسندوں نے ہفتے کے آخر میں اسرائیلی قصبوں پر حملے کیے، سینکڑوں افراد کو ہلاک اور درجنوں کو اغوا کر لیا۔