کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

68

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ آج 5173 ویں روز جاری رہا۔

اس موقع پر کراچی سے سینیئر صحافی اور پریس کلب کراچی کے عہدیدار محمد عارف بلوچ اور انکے دیگر ساتھیوں نے آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ قابض ریاست پاکستان کے خفیہ ادارے، فوج، سی ٹی ڈی اور دیگر فورسز بلوچستان میں بے لگام ہوکر نسل کشی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ وہ جب اور جہاں بھی چاہیں بلوچ طلبا، وکلا، ٹیچر کسی بھی شعبے یا مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے بلوچوں کو اغوا کرکے لے جاتے ہیں اور بعد میں جعلی مقابلوں میں انہیں شہید کرکے ان کی مسخ شدہ لاشوں کو کسی ویرانے میں پھینک دیتے ہیں۔ اب تک بلوچستان میں پاکستانی خفیہ ادارے 65000 سے زائد بلوچوں کو جبری اغوا کرکے لاپتہ کر چکے ہیں اور ان لاپتہ میں سی اب تک 20000 بیس ہزار کی مسخ لاشیں مل چکی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ آج میں خود سول ہسپتال کوئٹہ گیا وہاں سرد خانے میں دس مسخ شدہ لاشیں پڑھی تھیں انکی حالت ایسی تھی کہ وہ مشکل سے پہچانے جاتے تھے چند ایک کو میں نے پہچان لیا جنکی تصویر بھوک ہڑتالی کیمپ میں لگی ہیں جنہیں وحشیانہ تشدد کے بعد شہید کیا گیا تھا۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ یہ تمام لاشیں ان بلوچ مسنگ پرسنز کی ہیں جنہیں مختلف اوقات میں پاکستان سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ماورائے قانون اغوا کیا تھا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ان لاشوں کو بلوچ مسنگ پرسنز کے لواحقین کے حوالے کرنے کے بجائے ریاستی فورسز انہیں اپنے تحویل میں لئے ہوئے ہیں۔ جب کہ وہ سب لاشیں ڈی، این، اے ٹیسٹ کے لئے بلوچ لواحقین کے حوالے کرنے چاہیے بجائے ریاستی فورسز انہیں تحویل میں لئے ہوئے ہیں۔

ماما قدیر نے کہاکہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو چاہیے تھاکہ وہ پاکستانی ریاست پر دباؤ ڈال کر ان کیسز کی تحقیقات میں بذات خود کردار ادا کریں۔