سعودی عرب کا انڈیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان اقتصادی راہداری کا اعلان

340

سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان نے انڈیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کو جوڑنے والی اقتصادی راہداری کے منصوبے کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کا اعلان کیا ہے۔

سعودی گزٹ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد اقتصادی رابطے کو بڑھانا، بنیادی ڈھانچے کو بہتر اور اپ گریڈ کرنا اور شریک فریقوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینا ہے۔

ہفتے کو دہلی میں جی 20 رہنماؤں کے سربراہ اجلاس کے موقعے پر راہداری منصوبے سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا: ’آج مجھے خوشی ہے کہ ہم انڈیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کو جوڑنے والی اقتصادی راہداری کے منصوبے کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط کرنے کی غرض سے اس دوست ملک میں جمع ہیں۔‘

انہوں نے کہا، ’یہ منصوبہ گذشتہ چند ماہ کے دوران ہماری مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ان اصولوں پر بنایا کیا گیا ہے جو اقتصادی رابطوں کو بڑھا کر اور دوسرے ممالک میں ہمارے شراکت داروں اور مجموعی طور پر عالمی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کرکے ہمارے ممالک کے مشترکہ مفادات پورے کرتے ہیں۔‘

’یہ منصوبہ ریلوے، بندرگاہوں کو جوڑنے، اور سامان اور خدمات کی ترسیل میں اضافے سمیت بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور اپ گریڈیشن میں کردار ادا کرے گا، اس طرح شریک فریقین کے مابین تجارت میں اضافہ ہوگا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ بہترین کارکردگی، قابل اعتماد سرحد پار ڈیٹا ٹرانسمیشن کیبلز سمیت بجلی اور ہائیڈروجن کی برآمد اور درآمد کے لیے پائپ لائنوں کو بھی وسعت دے گا تاکہ عالمی توانائی کی فراہمی کی حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے۔‘

ولی عہد محمد بن سلمان نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ مفاہمت کی یادداشت صاف توانائی کی ترقی کی کوششوں کی بھی حمایت کرتی ہے اور تمام فریقوں کے لیے راہداریوں کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے اور اعلیٰ معیار کے مواقع پیدا کرے گی۔

انہوں نے کہا، ’ہم نے اس میمورنڈم میں جس چیز پر اتفاق کیا ہے، اسے حاصل کرنے کے لیے، ہمیں چاہیے کہ اجتماعی کوششیں جاری رکھیں اور متفقہ ٹائم فریم کے اندر اس کے نفاذ کے لیے ضروری میکانزم تیار کرنے کا فوری آغاز کریں۔‘

انہوں نے ان تمام لوگوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس اہم اقتصادی راہداری کے قیام کے لیے بنیادی اقدامات اٹھانے کے لیے مل کر کام کیا۔

انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے انڈیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان رابطے کی راہداری کے آغاز کا اعلان کیا، جو انڈیا، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، یورپی یونین، فرانس، اٹلی، جرمنی اور امریکہ کے ساتھ رابطے اور بنیادی ڈھانچے پر تعاون پر اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے۔

سعودی عرب اور امریکہ کی حکومتوں نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے جمعے کو مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔

اس دو طرفہ مفاہمت نامے میں براعظم ایشیا کو براعظم یورپ سے جوڑنے کے لیے مملکت کے ذریعے بین البراعظمی گرین ٹرانزٹ کوریڈور بنانے کی غرض سے پروٹوکول تیار کرنے کے لیے ایک فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کا مقصد ٹرانسمیشن کیبلز اور پائپ لائنوں کے ذریعے قابل تجدید بجلی اور صاف ہائیڈروجن کی منتقلی کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ریل کے ذریعے رابطوں کی تعمیر کرنا ہے۔

اس کا مقصد توانائی کی حفاظت کو بڑھانا، صاف توانائی کی ترقی کی کوششوں کی حمایت کرنا، ڈیجیٹل رابطے اور فائبر کیبلز کے ذریعے ڈیٹا کی ترسیل کے ذریعے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینا  اور ریل اور بندرگاہوں کے ذریعہ سامان کی تجارت اور نقل و حمل کو فروغ دینا ہے۔

سعودی عرب نے متعلقہ ممالک کے ساتھ گرین کوریڈور ٹرانزٹ پروٹوکول پر مذاکرات، قیام اور اس پر عمل درآمد میں سہولت کاری اور معاونت کے لیے امریکہ کے کردار کا خیر مقدم کیا۔