بلوچستان میں معصوم بچیاں تک محفوظ نہیں ہیں۔ بی وائی سی

88

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان نے منگچر سے لاپتہ نوجوان فٹ بالر اعجاز بلوچ کی جبری گمشدگی اور بعدازاں سی ٹی ڈی کی جانب سے انہیں کھٹان خضدار میں فیک انکاؤنٹر میں نشانہ بنانا ہمارے ان خدشات کی عکاسی کرتا ہے کہ سی ی ڈی کو بطور فورس متعارف کرایا گیا ہے تاکہ فورسز کے بجائے سی ٹی ڈی کے نام پر عام بلوچ کو جبری گمشدگی کا نشانہ بناکر انہیں قتل کیا جائے۔ اعجاز سمیت درجنوں ایسے افراد کو سی ٹی ڈی اب تک فیک انکاؤنٹر میں نشانہ بنا چکی ہے جن کی جبری گمشدگی کے چشم دید گواہ موجود ہیں لیکن یہ قتل و غارت ایک منصوبے اور حکمت عملی کے تحت ہو رہی ہے جو افسوسناک ہے۔ اعجاز بلوچ کو24 اگست ان کے گھر سے رات گئے دو بجے چادر و چاردیواری کی پامالی کرتے ہوئے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا جن کی جبری گمشدگی کی رپورٹ میڈیا میں بھی شائع ہوئی تھی لیکن انتہائی بےبنیاد جھوٹ بناکر انہیں فیک انکاؤنٹر میں نشانہ بنایا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ جہاں ایک طرف سی ٹی ڈی جیسی فورسز بلوچستان میں اعجاز جیسے نوجوانوں کو فیک انکاؤنٹر میں نشانہ بنانے اور ان کے قتل و اغواء میں مصروف ہیں وہی دوسری جانب ۔ بلوچ سماج جہاں کسی بھی بلوچ خواتین کے ساتھ بدتمیزی بھی سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے اب وہاں لاقانونیت اور باہر سے لائی گئی ذہنیت و نفسیات کے سبب ایسے دلخراش واقعات رونماء ہو رہے ہیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ 8 سالی حمیرہ کو جس بےدردی سے لاپتہ کرنا، اُس معصوم پھول کے ساتھ زیادتی کرنا اور انہیں مارنا یزیدیت کی انتہا ہے جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ بلوچستان میں حالات کو جس ڈگر پر پہنچایا جا رہا ہے وہاں سے حالات کا معمول میں آنا ناممکن ہو جائے گا۔ بلوچستان میں اب معصوم بچیاں تک محفوظ نہیں، ڈیتھ اسکواڈ کو مکمل چھوٹ حاصل ہے جبکہ ریاست نے سی ٹی ڈی جیسے فورس تشکیل دے کر لاپتہ افراد کو فیک انکاؤنٹر میں نشانہ بنانے کی زمہ داری ثونپ دی ہے۔ گوکہ ان حالات کو پیدا کرکے کچھ قوتیں وقتی فائدے حاصل کر سکیں لیکن مستقل طور پر لوگ یہ جبر کسی بھی صورت برداشت نہیں کرینگے۔

ترجمان نے بیان کے آخر میں بلوچ عوام سے مخاطب ہوکر کہا کہ بلوچوں کو سوچنا چاہیے کہ آج بطور قوم ہمارے پاس کیا رہ گیا ہے جہاں اب معصوم حمیرہ جیسی بچیاں بھی محفوظ نہیں جبکہ ریاست جس کی زمہ داری عوام کی حفاظت ہے انہوں نے سی ٹی ڈی جیسے فورس تشکیل دے کر بلوچ نسل کشی کو تیز کر دیا ہے۔ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ باشعور بلوچ اپنے حق و حقوق کیلئے سیاسی جدوجہد کا حصہ بنیں اور ان ناانصافیوں کے خاتمے کیلئے جدوجہد کریں کیونکہ جب تک بطور قوم ہم ان مظالم کو سہتے رہینگے ان کا ختم ہونا کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے۔