امریکی میرین کا یتیم افغان بچی کو گود لینا اغوا کے مترادف قرار دیا جا سکتا: امریکی حکومت

167

امریکی حکومت نے ریاست ورجینیا کے ایک جج کو سرکاری دستاویز میں کہا ہے کہ ایک امریکی فوجی کو افغان جنگ کے دوران ایک یتیم بچی کو گود لینے کی اجازت دینا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی، جسے دنیا بھر میں عالمی طور پر بچے کے اغوا کی حمایت کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق یہ تنبیہ خفیہ عدالتی دستاویز کا حصہ ہے۔

کسی بھی امریکی حکومت کے لیے مقامی کسٹڈی کیس میں مداخلت غیر معمولی واقعہ ہے لیکن اس بچے کو گود لینےسے متعلق تشویش سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں پائی جاتی ہے۔

محکمۂ انصاف کا مؤقف ہے کہ اس بچی کو گود لینے سے متعلق تنازعے کے اثرات دنیا بھر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ اس چار سالہ افغان بچی کے رشتے داروں کو اس بچی کو حوالے نہ کرنے سے امریکہ کی افغان مہاجرین کی بحالی کی کوششوں کو دھچکہ لگ سکتا ہے۔ ساتھ ہی اس سے بین الاقوامی سیکیورٹی معاہدے بھی متاثر ہوں گے۔

محکمۂ انصاف کے مطابق اس واقعے کو اسلامی انتہا پسند پراپیگنڈا کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں جس سے ملک سے باہر ڈیوٹی پر مامور فوجیوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

محکمۂ انصاف نے امریکی میرین میجر جوشوا ماسٹ اور ان کی اہلیہ کی جانب سے افغان بچی کو گود لینے کی عدالت کی جانب سے اجازت پر تنقید کی۔

یہ بچی اس جوڑے کے پاس 2021 سے ہے۔

محکمے نے کہا کہ عدالت نے میرین جوشوا کی جانب سے غیر مصدقہ حقائق پر انحصار کیا اور اس بچی کو امریکہ لانے کے لیے اہم سیف گارڈز کو نظر انداز کیا۔

جوشوا ماسٹ اور ان کی اہلیہ، فائل فوٹو

عدالتی ریکارڈ میں یہ بیان رواں برس گرمیوں میں فائل کیا گیا۔

خیال رہے کہ اس بچی کو گود لینے پر تنازع ہے۔ اسے امریکی فوجیوں نے 2019 میں ایک کارروائی کے بعد ملبے سے برآمد کیا تھا۔

جوشوا ماسٹ افغانستان میں بطور اٹارنی کام کر رہے تھے جو اس بچی کو فوجی اسپتال میں ملے اور اسے اپنے ساتھ لانے کا عزم کیا۔

’اے پی‘ کے مطابق جوشوا اور اس بچی کے رشتے داروں کو عوامی طور پر اس کیس سے متعلق بیان دینے پر پابندی ہے جب کہ ان کے وکلا نے اس رپورٹ سے متعلق ردِ عمل کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

تاہم ماضی میں عدالتی دستاویز میں جوشوا ماسٹ کے وکیل نے لکھا تھا کہ ان کے مؤکل اور اس کی اہلیہ نے یہ عمل اچھی نیت سے کیا تھا۔

ان کے بقول انہیں اس بچی کو تحفظ دینے اور ایک پیار بھرا گھر فراہم کرنے کے لیے بہت خرچہ اور قربانیاں دی ہیں۔