امریکہ سعودی ڈیفنس پیکٹ، خطے پر کیا اثرات پڑیں گے؟ – انور ساجدی

226

امریکہ سعودی ڈیفنس پیکٹ، خطے پر کیا اثرات پڑیں گے؟

تحریر: انور ساجدی

دی بلوچستان پوسٹ

نیویارک ٹائمز نے تہلکہ خیز رپورٹ شائع کی ہے کہ امریکہ سعودی عرب کو قائل کر رہا ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے میں اس سے دفاعی معاہدہ کر لے تاکہ اس کی سلامتی کو لاحق خدشات کا ازالہ ہوسکے۔اس سلسلے میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام گفت و شنید کرر ہے ہیں تاہم سعودی عرب نے بعض سخت شرائط پیش کر دی ہیں۔مثال کے طور پر اسے ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کی جائے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ توانائی اور طبی ضروریات کے لئے اسے ٹیکنالوجی فراہم کی جا سکتی ہے تاہم یہ ٹیکنالوجی ایٹمی ہتھیار بنانے کے لئے استعمال نہیں ہو گی ۔ غالباً سعودی عرب یہ مطالبہ ایران کے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے کر رہا ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ مستقبل میں ایران اس کی سلامتی کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔ ذرا گمان کیجیے کہ اگر امریکہ سعودی عرب کو یہ اجازت دے دے کہ وہ پرامن مقصد کے لئے کسی اور ملک سے یہ ٹیکنالوجی حاصل کرلے تو کون کون سے ممالک اسے یہ ٹیکنالوجی فراہم کریں گے۔ چند ماہ قبل سعودی عرب امریکہ کی وعدہ خلافیوں سے تنگ آ کر چین کی طرف مائل ہوگیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ چین کی ثالثی سے سعودی عرب اور ایران نے طویل عرصے کے بعد سفارتی تعلقات استوار کر لئے تھے۔ اس اقدام کی وجہ سے امریکہ سخت تشویش میں مبتلا ہوگیا تھا اور اسے خدشہ لاحق ہوگیا تھا کہ کہیں سونے کی یہ چڑیا چین کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ چنانچہ صدر بائیڈن نے سعودی حکام سے گفت و شنید کا فیصلہ کیا۔

دفاعی معاہدہ اور دیگر معاملات پر یہ بات چیت جاری ہے اور کئی مہینے تک جاری رہے گی سعودی عرب نے یہ شرط بھی پیش کی ہے کہ دو ریاستی تصور کو عملی جامہ پہنایا جائے۔فلسطین کی ریاست کو تسلیم کیا جائے۔امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ سعودی ریاست کے ساتھ اس طرح کا دفاعی معاہدہ کرے گا جو اس نے جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ کیا ہے لیکن سعودی عرب اس پر مطمئن نہیں ہے بلکہ وہ اپنی سلامتی کے لئے الگ اور دفاع کے لئے الگ معاہدوں کا مطالبہ کررہا ہے۔امریکہ کا کیا ہے وہ معاہدہ کر بھی لے تو اسے توڑنا کونسا مشکل ہے۔ جب پاکستان سیٹو اور سینٹو کا رکن تھا تو ہندوستان نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا تھا لیکن امریکہ بچانے نہیں آیا تھا۔ اس وقت چونکہ امریکہ یوکرین پر حملہ کی وجہ سے صدر پوٹن سے سخت نالاں ہے اس لئے اسے سعودی عرب جیسے مال دار ملک کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ اسے لوٹ کر جنگی اخراجات پورے کر سکے۔

1991 میں کویت پر قبضہ کے خلاف جنگ کے سارے اخراجات امریکہ نے سعودی عرب سے وصول کئے تھے۔اسی طرح افغانستان پر حملہ کا جنگی تاوان بھی سعودی عرب کو دینا پڑا تھا جبکہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں بھی سعودی عرب نے سینکڑوں ارب ڈالر جھونک دئیے تھے حالانکہ سعودی عرب کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔اسے خطرہ داخلی طور پر اپنے نظام سے ہے کیونکہ وہاں پر بنیادی انسانی حقوق ناپید ہیں۔ عوام کی رائے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ماضی میں یہ ملک شدید فرقہ وارانہ جنگیں بھی لڑتا رہا ہے جیسے کہ یمن کی جنگ سو فیصد فرقہ وارانہ تھی۔سعودی عرب پراکسی وارکے ذریعے کئی ممالک میں بے چینی پیدا کرنے کا موجب رہا ہے جبکہ اپنی شیعہ آبادی کے خلاف اس کے اقدامات جابرانہ رہے ہیں۔امریکی رپورٹس کے مطابق ملک کی نصف آبادی شیعوں پر مشتمل ہے لیکن ان پر کلیدی عہدوںپر آنے کے دروازے بند ہیں چنانچہ یہ خطرہ موجود ہے کہ اگر ایران نے ساتھ دیا تو یہاں کی شیعہ آبادی بغاوت کرسکتی ہے۔اس خطرہ کے پیش نظر امریکہ اسے جال میں پھنسا رہا ہے اور اس کا مقصد سعودی عرب کی بچی کھچی دولت کو ہڑپ کرنا ہے جبکہ ولی عہد محمد بن سلمان اسرائیل سے تعلقات پیدا کر کے اس کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کے دستورنرالے ہیں۔ حال ہی میں اس نے دہلی میں ہونے والی جی20 کانفرنس میں شرکت کر کے چین کے خلاف بڑا اتحاد بنایا لیکن کینیڈا میں ایک علیحدگی پسند سکھ رہنما کے قتل کے معاملہ میں اس نے مودی کو کنڈم کر کے کینیڈا کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ یہی کام فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے کیا۔ایک طرف امریکہ انڈیا کو استعمال کر کے چین کے خلاف محاذ بنا رہا ہے اور دوسری جانب وہ انڈیا کو بے توقیر بھی کر رہا ہے۔ ادھر کینیڈا کے وزیراعظم ٹروڈو کی دوغلی پالیسی بھی سمجھ سے بالاتر ہے جب بلوچ تحریک کی سرکردہ رہنما بانک کریمہ بلوچ وہاں پر قتل ہوئیں تو کینیڈا کی حکومت کے کانوں پر جوں نہیں رینگی لیکن ایک سکھ کے قتل پر اس نے انڈیا سے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے۔ شاید ایسا اس لئے ہوا ہے کہ کینیڈا میں لاکھوں سکھ رہتے ہیں جبکہ بلوچوں کی تعداد قابل ذکر نہیں ہے حالانکہ قانون کا اطلاق یکساں ہونا چاہیے۔اگر مغرب میں بھی قانون کا دہرا معیار ہو تواس پر صرف افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔

اس اثناءاطلاعات کے مطابق امریکہ نے افغانستان سے انخلاءکے بعد پاکستان کی طرف دوبارہ دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔اس کی اصل وجہ کیا ہے یہ تو اونچے درجے کی بات ہے اسے سمجھنا مشکل ہے۔عمران خان کے وقت امریکی دباﺅ پر پاکستانی حکومت نے سی پیک منصوبے کو منجمد کر دیا تھا شہبازشریف نے حکومت میں آکر 16 ماہ کے دوران اس منصوبے کو ازسر نو شروع کیا تھا لیکن معاملہ تیزی کے ساتھ آگے نہیں بڑھا گزشتہ دنوں جب امریکی سفیر نے بطور خاص گوادر کا دورہ کیا تھا تو افواہوں کا پھیلنا ناگزیر تھا کیونکہ رابن رافیل کے بعد کسی امریکی سفیر نے ساحل بلوچستان پر قدم رکھا تھا۔ لہٰذا یہ مہم جوئی خالی از اسرار نہ ہوگا۔آثار بتا رہے ہیں کہ چین اس منصوبے سے بددل ہو چکا ہے۔اسے پاکستانی حکام سے شکایتیں ہیں جبکہ یہ افواہ بھی ہے کہ امریکہ شدید دباﺅ ڈال رہا ہے کہ پاکستان یہ پورٹ اس کی مرضی کے کسی ملک کے حوالے کر دے۔اگرچہ دل نہیں مانتا کہ کوئی بھی پاکستانی حکومت چین کی ناراضگی مول لے کر ایسا قدم اٹھا سکتی ہے لیکن اگر چین کام روک دے تو پورٹ طویل لیز پر کسی کو بھی دی جا سکتی ہے۔زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ پاکستان کی حکومت مذکورہ ملک سے اتنے پیسے مانگ لے گا جو چین قرض دے چکا ہے۔پاکستان امریکہ سے دور اس لئے نہیں جا سکتا کہ اس کا سارا جنگی سازوسامان امریکی ساختہ ہے جبکہ تمام اسلحہ کے پرزے پارٹ امریکہ سے آتے ہیں لہٰذا اس لئے امریکہ سے مکمل تعلق توڑنا ممکن نہیں ہے۔اگر واقعی میں امریکہ گوادر میں دلچسپی لے رہا ہے تو یہ اس کے لئے سود مند سودا ہوگا اور وہ خلیج میں زیادہ قریب آکر ایران پر نظر رکھ سکتا ہے اور اسکی فوجی کارروائیوں کو کنٹرول کرسکتا ہے۔ گوادر پورٹ یا طویل ساحلی پٹی کے بدلے امریکہ پاکستان کو اربوں ڈالر دلوا سکتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان موجودہ بحران سے باہر نکل سکتا ہے اگر امریکہ چاہے تو ریکوڈک کا سودا آسانی کے ساتھ ہوسکتا ہے جس کے بدلے اتنی رقم مل سکتی ہے جس سے چین کا قرضہ واپس ہوسکے۔

رہی بات بلوچستان کی تو اس کی خیر ہے کیونکہ اس کے سارے وسائل برائے فروخت دستیاب ہیں نہ کوئی پوچھنے والا ہے نہ کوئی رکاوٹ ڈالنے والا ہے۔ایک دو سیاسی جماعتوں کو وزیری گزیری یعنی کابینہ میں حصہ چاہیے تاکہ ان کی گزر اوقات اچھی طرح چل سکے چنانچہ ساحل اور سارے وسائل بیچ دئیے جائیں تو بھی کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔