ماہِ اگست اور بلوچستان – ٹی بی پی رپورٹ

670

ماہِ اگست اور بلوچستان

ٹی بی پی فیچر رپورٹ

زارین بلوچ

اگست مہینے کی پیچیدہ معاملات کے درمیان جب پاکستان اپنے یوم آزادی پر خود کو پُرجوش سجاوٹ کے ساتھ زندہ رکھتی ہے، وہیں بلوچستان سے ایک الگ اور عجیب تضاد ابھر کر سامنے آتا ہے۔ اس خطے کے لوگوں کیلئے یہ مہینہ جشن منانے کے بجائے تاریخی جدوجہد اور انحراف کا نشان دہی کرتا ہے۔ جبکہ جھنڈے اور سجاوٹ پاکستان کی سڑکوں کی زینت بنتی ہیں تو دوسری جانب بلوچستان ایک مختلف جذباتی منظر پیش کرتا ہے جو مزاحمت، جدوجہد، یادگاری اور حق خودارادیت کے داستان کو زندہ رکھتی ہے۔

اس مہینے میں پاکستان کے قومی تہوار کے پس منظر میں بلوچستان اپنا ایک الگ اور منفرد بیانیہ پیش کرتا ہے۔ جہاں “یوم آزادی” پاکستانی قوم کی توجہ کا مرکز رہتی ہے، وہیں بلوچستان اس تقریب کو اپنے زاویئے سے یاد کرتا ہے، جیسے کہ ایک ایسا دن جو مسلط کردہ حکمرانی کے خلاف مزاحمت کو جنم دیتا ہے۔ یہ مہینہ متوازی نقطہ نظر کے حوالے سے بھی منفرد ہے جو دو خطوں کے مختلف منزل اور راستوں پر غور وفکر کرنے پر بھی مجبور کرتا ہے، کیونکہ یہ خطے سرحد تو بانٹتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے بلکل اجنبی اور الگ ہیں۔ جب پاکستان اجتماعی طور پر جشن پر توجہ مرکوز کرتی ہے تو بلوچستان کے پیچیدہ تجربات اور اس کی وجہ سے مشتعل شورشوں کی مسلسل پانچ لہریں وہاں کے لوگوں کی الگ شناخت کو ظاہر کرکے جوابی نقطہ پیش کرتی ہے۔

اگست کا مہینہ بلوچستان کے عوام کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جن میں بلوچ قوم پرست بھی شامل ہیں، جو بلوچستان کو پاکستان کا ایک جائز حصہ نہیں بلکہ “مسلط حکمرانی” کے زیر اثر کالونی سمجھتے ہیں۔ بلوچ قوم پرستوں کا موقف ہے کہ 11 اگست 1947 کو برصغیر سے برطانوی استعمار کے انخلاء کے ساتھ ہی بلوچستان عالمی نقشے پر ایک آزاد ملک کی حیثیت سے ابھرا اور بلوچ قوم نے اپنی وطن اور تقدیر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا، لیکن مشکل سے حاصل کی گئی یہ آزادی عارضی تھی۔

پاکستان کے بانی اور پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح نے بلوچستان کے رہنما خان آف قلات پر پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے دباؤ ڈالا۔ انکار پر پاکستانی افواج نے 27 مارچ 1948 کو بلوچستان پر زبردستی الحاق کر لیا۔ تب سے بلوچستان نے شورشوں کی پانچ شدید لہریں دیکھی ہیں، جن میں سے ہر ایک آخری سے زیادہ مہلک اور خطرناک تھی۔ بلوچ قوم پرستوں کا استدلال ہے کہ پانچویں لہر، جو اس وقت جاری ہے، اس کی گرفت میں بلوچستان کی وسعت اور چوڑائی ہے اور یہ پچھلی چار لہروں سے زیادہ پیچیدہ، جامع اور وسیع ہے۔

آزادی پسند سیاسی تنظیم بلوچ نیشنل موومنٹ نے ایک‌ میڈیا بیان میں 11 اگست کو بلوچستان کی “یومِ آزادی” کے طور پر منایا۔ بی این ایم کے سربراہ ڈاکٹر نسیم بلوچ کے مطابق یہ دن بلوچستان پر برطانوی نوآبادیاتی حکومت کی ایک صدی کے خاتمے کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ دن ہے جب بلوچ قوم نے اپنے وطن اور اپنی مشترکہ تقدیر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا۔ بی این ایم کے چیئرمین نے تاریخ کے واقعات سے برصغیر میں بلوچستان کے الگ حیثیت کی نشاندہی کی۔  انہوں نے کہا کہ 4 اگست 1947 کو بلوچستان کے حکمران خان آف قلات نے برصغیر کے برطانوی رہنماؤں اور مسلم لیگ کے سربراہ محمد علی جناح کے ساتھ ایک دستاویز پر دستخط کرکے بلوچستان کو ایک آزاد اور خودمختار قوم قرار دیا۔ ایک ہفتے بعد 11 اگست کو بلوچستان کی آزادی کا باضابطہ اعلان وائسرائے ہاؤس دہلی سے دنیا کو کیا گیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا لیکن آزادی قلیل المدتی تھی، کیونکہ انگریزوں نے جناح کے ساتھ مل کر بلوچستان پر بھرپور حملہ کیا، اور مؤثر طریقے سے اس پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ آج تک، بلوچستان مسلط کردہ حکمرانی کی زیر اثر ہے۔

اپنی تاریک تقدیر کو قبول کرنے کے بجائے، بلوچ آزادی پسندوں نے بہادری کے ساتھ اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کی ہے، مختلف درپیش دقتوں اور چیلنجوں کے باجود بلوچوں نے اپنے وطن پر قبضہ کرنے والوں کے سامنے کبھی سر نہیں جھکایا۔ انہوں نے کہا شورش کی ایک بے مثال لہر آگے بڑھ رہی ہے، جب تک بلوچستان اپنی مطلوبہ آزادی دوبارہ حاصل نہیں کرتا۔

بی این ایم کے مشکے چیپٹر نے 11 اگست کی یاد میں ایک اجتماعی تقریب منعقد کی۔ اس اجتماع میں مقررین نے جذباتی انداز میں اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کا ذکر کیا جنہوں نے “بلوچستان کی خودمختاری کے لیے اپنا خون بہایا۔” اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، بی این ایم کے رہنما شے بلوچ نے کہا، “یہ شہداء بلوچستان کی خودمختاری کی لازوال جدوجہد کا ثبوت ہیں۔ کچھ قربان ہوگئے، جب کہ دوسروں نے خود ساختہ جلاوطنی کا انتخاب کیا، پھر بھی کسی نے بھی اس مقصد سے اپنی وابستگی ترک نہیں کی۔ اس ثابت قدم عزم نے دہائیوں اور صدیوں کی تکالیف کو برداشت کیا ہے، جو یاد دہانی کرتا ہے کہ حقیقی آزادی میں وقت لگتا ہے۔ بلوچستان کا راستہ کٹھن ضرور ہے، لیکن خود مختار قومیت کی طرف سفر غیر متزلزل ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) نے بھی 11 اگست کو تاریخ کا اہم موڑ قرار دے کر منایا، جو بلوچستان پر برطانوی حکومت کے سو سالہ خاتمے کی علامت ہے۔ تنظیم نے کہا بد قسمتی سے یہ آزادی ایک سال سے بھی کم عرصے میں پاکستان کے مکمل حملے میں چھین لیا گیا۔ بلوچستان نے 75 سالہ محکومیت اور قبضے کے مقابلے میں پھر بھی سر نہیں جھکایا ہے۔ تاہم، محراب خان، نورا مینگل، اور خلیل جیسے بہادر بلوچ شخصیات نے بلوچستان کی آزادی کے لیے قابضین کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے، غلامی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ تنظیم نے کہا ان کی شہادت نے برطانیہ کے مکمل کنٹرول کو ناکام بنا دیا۔

مسلح گروہوں کا موقف

آزادی کے حامی بلوچ مسلح تنظیموں کے جذبات کی بازگشت بھی بلوچستان کی “یوم آزادی” کو زندہ رکھتی ہیں۔ یہ گروہ اگست مہینے کے دوران اپنی سرگرمیوں میں تیز رفتاری کو بھی اپناتے ہیں۔ اس مہینے میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے،  جس میں نہ صرف پاکستانی فورسز بلکہ پاکستان کی “یومِ آزادی” کیلئے جھنڈے بیچنے والوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مسلح گروہوں کی جانب سے 14 اگست کو “یوم سیاہ” سمجھا جاتا ہے، اور لوگوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ جشن منانے سے پرہیز کریں۔ بلوچستان میں ہمیشہ کی طرح اگست میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا۔ پاکستان کی یوم آزادی سے صرف دو دن قبل مسلح گروہوں نے دو الگ الگ حملوں میں پاکستانی پرچم فروخت کرنے والے اسٹال کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں سے اسٹال مالکان اور متعدد دیگر افراد زخمی ہوئے۔

اس طرح چند دن بعد 13 اگست، کو بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے گوادر میں پاکستانی افواج کے ہمراہ چینی انجینئرز کے قافلے پر حملہ کیا۔ بی ایل اے نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا، جس میں انکشاف کیا گیا کہ اسے مجید بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے دو “فدائین” نے انجام دیا، جو کہ بی ایل اے کا ایک خاص اور مہلک یونٹ ہے۔ مجید بریگیڈ خودکش حملوں میں اپنی مہارت کے لیے جانا جاتا ہے۔ حملے کے فوری بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔  دی بلوچستان پوسٹ کو مقامی ذرائع سے معلوم ہوا کہ فورسز نے متعدد چھاپے مارے اور متعدد افراد کو “جبری لاپتہ” کر دیا۔

بی ایل اے نے پاکستانی سیکورٹی فورسز اور پاکستان کے “یوم آزادی” کی تقریبات کو نشانہ بنانے کے حوالے سے تفصیلی بیان جاری کیا، جبکہ بی ایل اے کے جنگجوؤں کی‌ جانب سے بولان، تربت، پنجگور، قلات، اور مستونگ میں مربوط حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی۔ ان حملوں کے نتیجے میں ہلاکتیں اور متعدد زخمی ہوئے۔ بی ایل اے نے “بلوچ مادر وطن کی آزادی” تک “قابض قوتوں” کو نشانہ بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ بی ایل اے کے حملوں کا سلسلہ یہیں نہیں رکا بلکہ اس مہینے میں اس نے اور متعدد حملے کیے۔

آزادی کے حامی ایک اور تنظیم بلوچستان‌‌ لبریشن فرنٹ نے اگست کے پہلے دو ہفتوں میں پاکستانی فورسز کو نشانہ بنانے والے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی۔ بی ایل ایف نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں پاکستان فورسز کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے، مزید برآں، فورسز کو دیگر نقصانات بھی اٹھانے پڑے۔

اطلاعات کے مطابق بلوچستان بھر میں بلوچ مسلح گروہوں کی جانب سے کم از کم 81 عسکریت پسند حملے کیے گئے۔

سکیورٹی فورسز کا ردعمل

بڑھتے ہوئے تناؤ کو محسوس کرتے ہوئے پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے علاقے زامران میں 11 اگست کو انسدادِ بغاوت آپریشن کا آغاز کیا۔ جس میں زمینی افواج کو گن شپ ہیلی کاپٹر اور ملٹری ڈرون کی مدد حاصل تھی۔ سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے فوجی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائیاں “جبری گمشدگیوں” اور “قتل” کا ایک روپ ہیں۔

آپریشن کے دوران پاکستانی فورسز اور بی ایل ایف کے جنگجووں کے مابین جھڑپ بھی ہوئی جس کے نتیجے میں بی ایل ایف کے دو جنگجو مارے گئے۔ تنظیم نے ایک میڈیا بیان جاری کرتے ہوئے کہا؛ شہید ہونے والے سرمچاروں نے دو پاکستانی فورسز اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی کر کے خود شہادت قبول کی۔

اگست کے مہینے میں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں بھی اچانک لیکن متوقع اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔  دی بلوچستان پوسٹ نے پورے مہینے میں جبری گمشدگیوں کے کم از کم 56 کیسز درج کیے ہیں، جو کہ تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔  حراست میں لیے گئے افراد میں سے چند واپس آچکے ہیں، لیکن اکثریت لاپتہ ہے۔ مجید بریگیڈ کے حملے کے بعد گوادر میں سرچ آپریشن اور زمرہ انسداد بغاوت آپریشن نے بھی جبری گمشدگیوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

دریں اثنا، بلوچ کارکنوں نے سیکورٹی فورسز کے مہم پر بھی روشنی ڈالی۔ انسانی حقوق کی کارکن اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی آرگنائزر حوران بلوچ نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کس طرح ان کے خاندان کو اس کی سرگرمیوں کی وجہ سے ہراسگی اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز نے ان کے گھر میں گھس کر ان کے گھر والوں کو ڈرا دھمکا کر اس کی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کی۔

ٹی بی پی نے یہ بھی دستاویز کیا کہ اگست کے مہینے میں بلوچستان بھر میں پاکستانی مسلح افواج کی طرف سے کم از کم 56 چھاپے، ناکہ بندی اور فوجی آپریشن کیے گئے۔ ان پرتشدد واقعات سے 7 لاشوں کی اطلاع بھی ملی۔

اگست کے مہینے میں ایک اہم بلوچ رہنماء نواب اکبر بگٹی کی برسی بھی منائی جاتی ہے۔  26 اگست 2006 کو کوہلو میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں ان کا قتل بلوچستان کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے۔ نواب بگٹی بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور بلوچ عوام کو ان کے اپنے قدرتی وسائل میں زیادہ حصہ نہ دینے پر پاکستانی ریاست سے ناراض تھے۔ سوئی، ڈیرہ بگٹی میں مبینہ طور پر پاکستانی فوجی اہلکار کے ہاتھوں ایک خاتون ڈاکٹر کی عصمت دری بھی ایک اہم نکتہ تھا۔

نواب بگٹی نے اس وقت ہتھیار اٹھائے جب اس وقت کے آمر پرویز مشرف سمیت پاکستانی حکام نے ایک خاتون ڈاکٹر کی عصمت دری کے مبینہ مجرم کو حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔  پاکستانی افواج نے بگٹی کو گھیرنے کے لیے ڈیرہ بگٹی میں بھرپور آپریشن کیا، لیکن وہ پہاڑوں کی طرف چلا گیا اور اس نے گوریلا جنگ کا انتخاب کیا۔ نواب بگٹی اس وقت شہید ہوگئے جب مبینہ طور پر پاکستانی فورسز نے ایک غار، جس میں وہ مقیم تھے، ان پر گرا دیا۔ بلوچستان کے لوگوں کے لیے نواب بگٹی مزاحمت کی علامت بن گئے اور پاکستانی ریاست کے نزدیک وہ ان کے اختیار کو چیلنج کرنے والا ایک مجرم تھا۔

اگست بلوچستان کیلئے خون اور علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔  کیونکہ اس مہینے میں بلوچ قوم پرست اور “آزادی کے حامی” گروہ جشن اور ماتم کا ایک انوکھا امتزاج رکھتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مہینہ ہے جو بلوچستان کو مختصر آزادی کے مزے کی یاد دلاتی ہے۔ یہ وہ مہینہ بھی ہے جب “قابض” پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک ملک بن گیا۔ اگست بلوچستان میں کڑوے میٹھے احساسات کا حامل ہے، جو تلخ پہلو کی طرف زیادہ جھکتا ہے۔ جذبات کا اختلاف اس نہ جھکنے  والی سرزمین کی داستان کو تشکیل دیتا ہے، جو حقیقی خودمختاری کے متلاشی لوگوں کے پائیدار جذبوں کا ثبوت ہے۔