عورتوں کی شمولیت کے بغیر تحریک کی کامیابی ممکن نہیں – ماہ گنج بلوچ

588

بلوچستان نیشنل موومنٹ کے تربیتی پروگراموں کے سلسلے میں ’’آزادی کی تحاریک میں خواتین کا کردار‘‘ کے عنوان سے پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض بی این ایم نیدرلینڈ چیپٹر کے ممبر اسلام مراد، پروگرام سہولت کار کے فرائض بی این ایم یو کے زون کے ممبر حفیظ بلوچ نے انجام دیے جبکہ منتخب موضوع پہ بی این ایم سینٹرل کمیٹی کی ممبر ماہ گنج بلوچ نے خیالات کا اظہارکیا۔

یہ سینئر وائس چیئرمین ڈاکٹر جلال بلوچ کی سربراہی میں ہونے والے بلوچ نیشنل موومنٹ کے تربیتی پروگراموں کے سلسلے کا آٹھواں پروگرام تھا۔

موضوع پہ روشنی ڈالتے ہوئے ماہ گنج بلوچ نے کہا، کہتے ہیں کہ آزادی کی تحریک ایک پرندے کی ماند ہے اور اگر پرندے کا ایک پر کاٹ دیا جائے تو وہ اڑنے کے قابل نہیں رہتا، اسی طرح عورتوں کی شمولیت کے بنا تحریک کی کامیابی بھی ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم تاریخ کا جائزہ لیں تو سماجی انقلاب بھی عورتوں نے ہی لایا۔ مال مویشی پالے اور زراعت کو فروغ دیا جس نے سماجی زندگی کی بنیاد ڈالی، لیکن جوں ہی سماجی زندگی کاآغاز ہوا تو سماج پدرسری نظام کی جانب گامزن ہوا جس میں عورتوں کو ثانوی حیثیت دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پدر شاہی نظام کے باوجود ہم آزادی کی تحریکوں یا بلوچ تحریک کو دیکھیں تو خواتین کی ایک بڑی تعداد دیکھنے کو ملتی ہے حالانکہ پدر شاہی اور اس کے ساتھ نوآبادیاتی نظام نے سماج کو مفلوج کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا۔ اس کے باوجود ہم بلوچ سماج میں کریمہ کو دیکھ سکتے ہیں جو رہنماء بن کر ابھریں، ہم ماہ رنگ کو دیکھ سکتے ہیں، ہم حوران کو دیکھ سکتے ہیں، اس کے علاوہ اور بہت ساری مثالیں موجود ہیں حالانکہ سماجی مسائل اور رکاوٹیں بھی بہت زیادہ ہیں لیکن ان مسائل کے باجود بھی عورتوں کی کمٹمنٹ پہ سوال نہیں اٹھتا اور اگر ہم اپنا ماضی دیکھیں تو بی بی گل، بانڑی اور بہت ساری عورتیں ہیں جنھوں نے عظیم کارنامے سرانجام دیے۔

ماہ گنج بلوچ نے مزید کہا کہ آزادی کی تحریکوں کو خواتین روح بخشتی ہیں۔ اس ضمن میں میر گل خان نصیر کہتے ہیں کہ ’’بلوچ تاریخ کی عظمت و شان دراصل عورتوں کی مرہون منت ہے‘‘ اور وہ مزید وہ کہتے ہیں کہ ’’عورت مرد کی نسبت زیادہ مضبوط ہے۔‘‘۔ فقیر شاد بانڑی کے بارے میں کہتا ہے کہ’’جب ہمایوں اور چاکر کی لڑائی ہوئی تو اس جنگ میں بھی بانڑی کا کردار روز روشن کی طرح عیاں تھا۔‘‘ اس جنگ میں بانڑی کا ہی کردار تھا جس کی وجہ سے میدان جنگ میں سوری لشکر کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور آج بھی کہتے ہیں کہ دہلی بلوچوں نے فتح کیا، تو میں سمجھتی ہوں کہ یہ فتح بانڑی کی مرہون منت تھی۔

انھوں کہا کہ گل بی بی جنھوں نے جنرل ڈائر کے خلاف بہادری کی داستان رقم کیں بھی تاریخ کا حصہ ہے جس کے کردار کا اعتراف ڈائر نے بذات خود کیا ہے۔ انہی جنگوں میں بی بی گل جنگی کمان اور سفارتکاری کی ذمہ داری اپنے ہاتھ لیتی ہے۔ اسی طرح مائی بیبو کا کردار بھی نمایاں ہے، انھوں نے بھی جنگوں میں بہادری کی داستان رقم کی، جس کی تعریف دشمن نے بھی کیا۔

اس پروگرام میں ماہ گنج بلوچ نے عالمی اور علاقائی سطح پہ خواتین کی جدوجہد پہ بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔

انھوں نے کہا کہ آج بلوچ خواتین بالخصوص کریمہ کی جدوجہد نے ریاست کو مفلوج کرکے رکھ دیا کیوں کہ کریمہ بلوچ نے بلوچستان میں ہر کوچہ و گدان کا رخ کیا اور جہاں بھی قدم رکھتیں وہاں لوگوں کو جہد آزادی میں متحرک کرتیں۔ اسی لیے میں سمجھتی ہوں کہ آج بلوچ تحریک میں خواتین کا جو کردار ہے وہ سب کریمہ کے کردار اور جدوجہد کی مرہون منت ہے۔ کیوں کہ انھوں نے ملک کے اندر رہتے ہوئے اور بیرون ملک بھی انتہائی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ، ایسی ہستیاں انمول ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا میں سمجھتی ہوں کہ 2020ء میں ڈنک واقع کے بعد بلوچ سرفیس سیاست میں ایک بار پھر زندگی کی روح پھونک دی گئی اس کا سہرا بھی ایک عورت کے سر جاتا ہے، اور وہ ہے ملک ناز، ان کی بہادری اور شہادت۔ جنھوں نے ریاستی ڈیتھ سکواڈ کے خلاف مزاحمت کی اور ان کے مزاحمتی کردار نے سماج کو جھنجوڑ دیا۔ جس کے بعد پورے بلوچستان میں ایک بیداری کی لہر پیدا ہوئی ، اس واقعے کے خلاف مظاہروں میں خواتین نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ملک ناز نے اپنی شہادت سے یہ پیغام دیا ہے کہ خاموشنی موت ہے لہٰذا ہمیں مزاحمت کرنی ہے۔

ماہ گنج نے کہا کہ دنیا میں جہاں جہاں بھی تحریکیں چلیں وہاں عورتوں نے عظیم کارہائے نمایاں سرانجام دیے، وہ چاہے ہندوستان ہو، سند ھ کی دھرتی ہو، فلسطین ہو، امریکہ ہو یا دیگر خطے ہر مقام پہ عورتوں نے مٹی کا فرض اتارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اسی طرح آج بلوچ قوم کے خواتین بھی قومی آزادی کے جذبے سے سرشار دشمن کے خلاف بھر پور مزاحمت کررہی ہیں۔