‏بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں میں اضافہ تشویشناک ہے۔ بی ایس او آزاد

265

‏بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے حالیہ دنوں، کیچ، کراچی، گوادر اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے قبضے کومستحکم رکھنے کیلئے قابض پاکستانی فورسز ہمیشہ سے باشعور بلوچ طلباء کو نشانہ بناتی آ رہی ہے حالیہ دنوں بلوچستان بھر میں بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ طلباء کو ماورائے عدالت گرفتار کرکے انہیں سالہاں سال جبری طور پر گمشدگی کا نشانہ بناکر نوجوانوں کے اندر خوف و ہراس پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے تاکہ بلوچ نوجوان قومی و شعوری اور فکری جدوجہد سے دور رہیں، اسی پالیسی کے تحت باشعور بلوچ طلباء کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

‏ترجمان نے کہا کہ گزشتہ دنوں کیچ میں ایک غیر قانونی چھاپے کے دوران بلوچ چادر و چار دیواری کی پامالی کرتے ہوئے دو بلوچ طالب علموں کو تربت کے علاقے آبسر سے اٹھایا گیا اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا جبکہ اطلاعات کے مطابق ان میں سے اکرام نامی ایک نوجوان بازیاب جبکہ سالم نامی دوسرا نوجوان اب تک لاپتہ ہے جن کے حوالے سے اب تک خاندان کو کوئی معلومات فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔ اسی طرح کے ایک اور واقعے میں کراچی سے پسنی کے رہائشی معراج اسلم کو اٹھا کر قید زندان میں بند کیا گیا ہے اور ایک مہینہ گزرنے کے باوجود انہیں اب تک منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے، ایک اور واقعے میں گوادر سے ایک کمسن طلباء کو جبری طور پر گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان تمام واقعات کے پیچھے بلوچستان میں قابض پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے اہلکار ملوث ہیں۔ حالیہ دنوں طلباء کی جبری گمشدگیوں میں اضافے سے ریاست کی فرسٹریشن واضح طور پر دیکھائی دے رہی ہے جسے بلوچ مزاحمت کے سامنے مکمل طور پر ناکامی کا سامنا ہے۔

‏ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو اس وقت سنگین ریاستی بربریت کا سامنا ہے جن کی حفاظت و تحفظ کی زمہ داری عالمی برادری پر عائد ہوتی ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے اور مہذب ممالک پاکستانی ریاست کو بلوچستان میں جاری سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جرائم پر انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کریں اور لاپتہ بلوچ طلباء کی باحفاظت بازیابی یقینی بنائیں۔