نائجر کی فوج کا حکومت کا تخت الٹنے کا دعویٰ

185

مغربی افریقی ملک نائجر میں بدھ (26 جولائی) کو صدارتی گارڈز کے ارکان کی جانب سے صدر محمد بازوم کو حراست میں لیے جانے کے بعد فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حکومت کا تختہ الٹ دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدارتی ذرائع نے بتایا کہ ایلیٹ گارڈ کے ارکان نے دارالحکومت نیامے میں صدر محمد بازوم کی رہائش گاہ اور دفاتر تک رسائی مسدود کردی اور مذاکرات ختم ہونے کے بعد بھی انہیں رہا نہیں کیا گیا۔

فوجیوں کا کہنا تھا کہ ملک میں ’تمام ادارے‘ معطل رہیں گے، سرحدیں بند کر دی جائیں گی اور رات 10 بجے سے صبح پانچ بجے تک کرفیو ہوگا۔

کرنل میجر عمادو عبدرامانے نے بدھ کی رات ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا: ’ہم یعنی دفاعی اور سکیورٹی  فورسز نے صدر بازوم کی حکومت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

وردی میں ملبوس دیگر نو فوجی بھی ان کے اطراف موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا: ’سکیورٹی کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورت حال، خراب معاشی اور سماجی گورننس کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔‘

علاقائی اور عالمی رہنماؤں نے صدر محمد بازوم کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے دو سال قبل اقتدار سنبھالا تھا اور 1960 میں فرانس سے آزادی کے بعد نائجر میں اقتدار کی یہ پہلی پر امن منتقلی تھی۔