اسرائیل: عوامی احتجاج کے باوجود عدالتی اصلاحاتی بل منظور کرلیا

120

اسرائیل کی سخت گیر دائیں بازو کی حکومت نے پیر کو اپنے متنازع عدالتی اصلاحاتی پیکج کی ایک اہم شق کی پارلیمان سے منظوری حاصل کر لی ہے جب کہ عدالتی اصلاحات کے خلاف کئی ماہ سے بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہے اور اتحادی ملک ان پر خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نتن یاہو اور ان کے اتحادیوں نے بل منظور کر لیا جب کہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے بائیکاٹ کیا۔ بعض اپوزیشن اراکین میں سے کچھ نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔

ناقدین کا الزام ہے کہ  عدالتی اصلاحات کے نتیجے میں انتظامیہ کے احتساب کا راستہ بند ہو جائے گا، جس کی ملک کی آزاد خیال جمہوریت کمزور ہو گی۔ حکومت کا استدلال ہے کہ اسے عدالتی اختیارات کم کرنے کی ضرورت ہے۔

120 نشستوں کے ایوان میں 64 ووٹوں سے منظور ہونے والے اس بل کا مقصد ان حکومتی فیصلوں کو کالعدم قرار دینے کے سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرنا ہے، جنہیں ججز’غیر معقول‘ سمجھتے ہیں۔

جنوری میں اسرائیلی حکومت کی طرف سے متعارف کروائے جانے کے بعد اصلاحاتی پیکج اسرائیل کی تاریخ کی سب سے بڑی احتجاجی تحریک کا سبب بن گیا۔

عدالتی اصلاحات پیکیج کی شق کا بل 73 سالہ نتن یاہو کی پارلیمان میں واپسی کے کئی گھنٹے بعد منظور کیا گیا۔

ایک دن قبل دل کی دھڑکن کو باقاعدہ بنانے کے لیے آپریشن کے ذریعے انہیں پیس میکر لگایا گیا تھا۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کے باہر پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا جب کہ مظاہرین کے ہجوم پر قابو پانے کے لیے گھڑ سوار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ چھ ماہ سے جاری احتجاج کے بعد حکومت اور عدالتی اصلاحات کے مخالفین کے درمیان تصفیہ کروانے میں ناکام رہے۔ قبل ازیں وہ خبردار کر چکے ہیں کہ اسرائیل کو ’قومی ہنگامی صورت حال‘ کا سامنا ہے۔