کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

132

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا جبری گمشدگیوں کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ آج 5058 ویں روز جاری رہا۔ آج زھری نورگامہ سے سیاسی اور سماجی کارکنان حبيب اللہ، عبدالستار، عبدالمنان اور دیگر نے آکر لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کی۔

تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ قابض ریاستی فورسز کی جانب سے بلوچ نسل کشی جاری ہے، اور بلوچ قوم کی دیدہ دلیری، ثابت قدمی اور بیش بہا قربانیوں کی بدولت پچھتر سالوں کی جبر کے سامنے بلوچ اپنے قومی بقاء اور سلامتی کو برقرار رکھنے کیلئے زندہ ہے، دوستوں اور ہمدردوں کی جدوجہد سے ہماری پرامن جاری ہے، اس جدوجہد کیلئے ہزاروں شہداء نے اپنا خون دیا ہے اور ہزاروں فرزندانِ وطن آج تک ریاستی کال کوٹھڑیوں میں اذیتیں سہ رہے ہیں –

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ پاکستان میں حالات کیسے بھی ہوں لیکن ریاستی فورسز بلوچستان میں اپنا ظلم و بربریت جاری رکھے ہوئے ہیں، بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن بدستور جاری ہیں، بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں میں بے دریغ اضافہ ہوا ہے، ان گمشدگیوں کو روکنے کیلئے تمام بلوچ طلباء کو متحد ہوکر آواز اٹھانا چاہیے، طلباء قیادت سمیت کسی بھی بلوچ طلباء تنظیم سے منسلک ہوں انہیں اپنے سطحی اختلافات اور تفرقات کو کونے میں رکھ کر ان جبری گمشدگیوں کے خلاف موثر اقدامات اٹھانے چاہیے۔