کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

188

بلوچستان سے جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری طویل بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج5033 دن مکمل ہوگئے، محمد حسن مینگل ایڈوکیٹ، سابقہ چیئرمین بی ایس او محمد خان مینگل اور دیگر مرد خواتین نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی-

کیمپ آئے وفد سے گفتگو میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے ایک سابقہ وزیراعلیٰ کئی دفعہ یہ بیان دے چکے ہیں کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں خفیہ ایجنسیاں ایف سی، سی ٹی ڈی ملوث ہیں اور ایف سی بلوچستان حکومت کے ماتحت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں، جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں کی برامدگی نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سمیت اقوام متحدہ یورپی یونین کو بھی متوجہ کیا ہے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں بلوچستان میں ریاست پاکستان کی جانب سے بلوچ قوم کی نسل کشی بلوچستان میں آبادیوں پر بمباری بڑی تعداد میں شہریوں کی نقل مکانی بلوچ قوم کی حق خود اختیاریت اور بلوچ قومی پرامن جدجہد کی حمایت میں بیانات اور بلخصوص بلوچوں کی جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا-